نام کے حروف و اعداد مقرر کرنے کے بنیادی اصول و قواعد

مقصود حسین صدیقی صاحب نے علم الاعداد اور علم نجوم کے حوالے سے کچھ مسائل کا تذکرہ کیا ہے، صدیقی صاحب کی بزرگانہ محبت اور ہم پر اعتماد نے مجبور کردیا ہے کہ ان مسائل کا جواب دیا جائے، ویسے بھی یہ مسائل ایسے ہیں کہ یقیناً دیگر افراد کے ذہنوں میں بھی الجھن کا سبب بنتے ہوں گے لہٰذا پہلے آپ ان کا خط ملاحظہ کیجیے پھر اس پر بات ہوگی، وہ لکھتے ہیں۔
’’علم الاعداد کے حوالے سے آپ کا پرانا قاری ہوں، میری الجھنوں کو دور کردیں تاکہ میں بچوں کے نام صحیح طرح نکال سکوں، عرض یہ ہے کہ علم الاعداد ایک حساب ہے اور سائنس بھی، حسابات کے جواب بھی ایک ہی ہوں گے، کتاب ’’رہنمائے تسمیہ‘‘ میں تاریخ پیدائش سے اعداد نکالنے کے لیے دنوں کے اعداد کو بھی شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور اتوار کا عدد ایک سے شروع کرکے بتدریج ہفتے تک سات کا عدد شمار کرتے ہیں، اس کے طریقے کے مطابق ایک بچہ بروز ہفتہ سترہ نومبر 1984 ء کو پیدا ہوا، مکمل تاریخ پیدائش کے اعداد کا مجموعہ 32 اور مفرد عدد 5 نکلا، اب وہ اس میں ہفتے کا عدد 7 بھی شامل کرتے ہیں، اس طرح مفرد عدد 3 ہوجاتا ہے، آپ بتائیں یہ فرق کیوں ہے؟ کون سا طریقہ مانا جائے، وضاحت کردیں تاکہ تشنگی باقی نہ رہے‘‘۔
محترم! آپ کے مندرجہ بالا سوال کا جواب دے کر پھر باقی سوالات کی طرف آئیں گے، آپ نے جس کتاب کا حوالہ دیا ہے ہماری نظر سے نہیں گزری، اس کتاب میں جو طریقہ بھی دیا گیا ہے وہ مصنف کی اپنی اختراع یا اپنا ذاتی تجربہ ہوسکتا ہے لیکن یہ طریقہ معروف ہر گز نہیں ہے، قدیم و جدید علمائے علم الاعداد کی جو کتابیں ہماری نظر سے اب تک گزری ہیں، ان کے مطابق درست طریقہ وہی ہے جو ہم نے لکھا تھا یعنی تاریخ پیدائش، مہینہ اور سال کے اعداد سے عدد قسمت حاصل کیا جاتا ہے،البتہ مشہور پامسٹ اور ماہر علم الاعداد کیرو کا عقیدہ و تجربہ اس کے برعکس ہے، وہ صرف تاریخ پیدائش کے عدد ہی کو عدد قسمت قرار دیتا ہے لیکن علم الاعداد کے ماہرین کی اکثریت نے اس سے اختلاف کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ صرف تاریخ پیدائش کا عدد، عدد قسمت نہیں ہوسکتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ عدد بھی انسان کی زندگی پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے، وہ اسے ’’عدد سعد‘‘ قرار دیتے ہیں لیکن عدد قسمت مکمل تاریخ پیدائش کے عدد کو ہی مانتے ہیں، اس موضوع پر حضرت کاش البرنیؒ نے اپنی کتاب ’’عددوں کی حکومت‘‘ میں تفصیلی بحث کی ہے، آپ اس کا مطالعہ ضرور کریں۔
اب ایک اور بات بھی سمجھ لیں جو ہمارے ذاتی مطالعے اور تجربے کا نچوڑ ہے، ہم نام رکھنے کے سلسلے میں مکمل تاریخ پیدائش کے مفرد عدد یعنی عدد قسمت کے ساتھ صرف تاریخ پیدائش کے مفرد عدد یعنی عدد ذات کو بھی اہمیت دیتے ہیں یعنی موقع محل کی مناسبت سے دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیتے ہیں اور یہ طریقہ زیادہ مفید رہتا ہے، اب اس کی وجہ بھی جان لیجیے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر مکمل تاریخ پیدائش کا عدد مفرد 8 آئے تو ہم ہر گز آٹھ نمبر کا نام نہیں رکھتے کیوں کہ اس عدد کے بارے میں ہماری رائے بہت خراب ہے جس کا اظہار پہلے کرچکے ہیں، ہاں اگر زائچہ پیدائش میں زحل باقوت اور سعد ہو تو یہ رسک لیا جاسکتا ہے، ایسی صورت میں ہم صرف تاریخ پیدائش کے عدد کے مطابق نام تجویز کرتے ہیں، ایک دوسرے صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کسی کی تاریخ پیدائش اور مکمل تاریخ پیدائش دونوں کا عدد آٹھ آئے تو کیا کریں؟ پھر یہ کریں کہ تین نمبرکا نام رکھ دیں یا اگر علم نجوم سے واقفیت ہو اور زائچہ بھی سامنے موجود ہو تو طالع پیدائش کے برج کے عدد کو لیں یا زائچے میں جو سیارہ باقوت و سعد ہو اس سے منسوب عدد کو لیں، ہمارا طریقہ کار تو یہی ہے اور یہی ماہرین کی اکثریت میں معروف طریقہ ہے۔
اسی طرح ہم اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے کہ عدد سعد یا عدد قسمت میں جو موافق عدد ہو، اس کے مطابق نام رکھ دیا جائے، مثلاً عدد دو اور سات ایک دوسرے کے موافق ہیں اور ایک اور چار بھی، اب اگر عدد قسمت یا تاریخ پیدائش کا عدد سات ہو تو دو نمبر کا نام رکھنا بہت بہتر ہوگا یا تاریخ کا عدد دو ہو تو سات نمبر کا نام بھی تجویز کیا جاسکتا ہے۔
آخری بات، اعداد کی دنیا بہت وسیع اور علم الاعداد بہت پیچیدہ علم ہے، انسانی زندگی میں اعداد کے تماشے کس طرح ظہور پذیر ہوتے ہیں، یہ ایک ازحد طولانی باب ہے، تاریخ پیدائش کا عدد، مکمل تاریخ پیدائش کا عدد، نام کا عدد، عرفیت کا عدد، لقب کا عدد، خطاب کا عدد، بروج و سیارگان کے اعداد الغرض اور بھی بہت سی اقسام جن میں روز پیدائش کا عدد بھی شامل ہے، زندگی پر کس طرح اور کب اثر انداز ہوتے ہیں یہ بڑے تفصیلی مطالعے کے بعد ہی سمجھ میں آسکتا ہے اور اس معاملے میں خود کو زیادہ الجھانے کی عام آدمی کو ضرورت بھی نہیں ہے، سادہ اور معروف طریقہ کار جو ہم نے لکھ دیا ہے، یہ کافی ہے اور تجربہ شدہ ہے، اس کے مطابق نام رکھ دیا جائے تو آگے کوئی الجھن پیدا نہیں ہوتی، کم از کم عددی معاملات میں اب آگے چلیے، آپ کا دوسرا مسئلہ۔
’’ایک مسئلہ برجوں کے اوقات کا ہے، آپ نے گزشتہ کالموں میں پورے سال کا ایک چارٹ چھاپا تھا، کیا یہ چارٹ ہر سال کے لیے کارآمد ہے؟ کیا لیپ کے سال میں جب کہ فروری 29 دن کا ہوگا برج حوت 20 فروری سے 20 مارچ تک ہی رہے گا؟ برجوں اور ان کے سیاروں اور اوقات برج متعلقہ الفاظ کے بارے میں بھی کچھ تشنگی ہے، میں دوسرے صفحے پر چارٹ کی نقل دے رہا ہوں، جہاں جہاں آپ کے چارٹ سے ’’ایک بڑے اخبار‘‘ اور ایک کتاب میں مطابقت نہیں ہے وہ سرخ روشنائی سے لکھ رہا ہوں تاکہ موازنے میں آسانی ہو، برجوں کے حروف متعلقہ جو آپ نے دیے تھے ان کا مقصد تو ظاہر میں یہی ہے کہ ان ہی کے مطابق نام کا پہلا حرف آئے، میرے مطالعے میں یہ آرہا ہے کہ برج کے عنصر اور متعلقہ حروف کے عنصر میں نظریہ دوستی و دشمنی کے تحت اختلاف پایا جاتا ہے، کیا برج کے مخالف عنصر کے حرف سے نام رکھنا مناسب ہوسکتا ہے، ایک اور گزارش یہ کہ کیا علم الاعداد کے ذریعے نام کے اعداد نکالتے وقت مندرجہ ذیل ناموں میں کیا ہمزہ (ء) کا ایک نمبر لیا جائے گا؟ اسی طرح کیا طوبیٰ اور رحمن کے کھڑے الف کا عدد ایک لیا جائے گا؟ مجھے امید ہے کہ آپ رہنمائی کریں گے تاکہ میں اس علم کو سمجھ سکوں اور دوسروں کی کچھ مدد کرسکوں‘‘۔
محترم! ہر چند کہ ان سوالوں کے جواب مفصل طور پر بہت طول پکڑسکتے ہیں مگر ہم اختصار سے آپ کی تسلی کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہم نے جو چارٹ بروج کے حوالے سے تاریخوں کا دیا تھا، وہ درست ہے اور ہر سال کے لیے کارآمد ہے، خصوصاً پاکستان کے لیے ، لیپ کے سال میں فروری کا ایک دن اسی لیے بڑھایا جاتا ہے کہ چار سال میں جو کمی آہستہ آہستہ واقع ہورہی ہوتی ہے اسے پورا کرلیا جائے لیکن شمس کے برج حوت میں داخلے کی تاریخوں میں کبھی کبھار فرق آجاتا ہے لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔
آپ نے جس اخبار اور کتاب کے حوالے سے ہمارے دیے ہوئے چارٹ کا موازنہ پیش کیا ہے، اس میں مغربی وقت کی پیروی کی گئی ہے جو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم سے پانچ گھنٹے کم ہے یعنی گرین وچ مین ٹائم، ہمارے ملک میں اکثر اخبار و رسائل چوں کہ باقاعدہ ماہرین کی خدمت ان کاموں کے لیے حاصل نہیں کرتے بلکہ مغرب سے کتابیں منگاکر ان کا ترجمہ شائع کرنے پر اکتفا کرتے ہیں لہٰذا ترجمہ کرنے والے کو ٹیکنیکل امور کا علم ہی نہیں ہوتا اور وہ اس فرق کو بھی نہیں سمجھ سکتا جو وقت کی کمی بیشی سے دور دراز ملکوں کے معاملات میں ہوتا ہے، ایک مثال سے اسے سمجھ لیں، سیاروں کی رفتاریں اور ان کا متعلقہ بروج میں داخلہ ہر ماہ گرین وچ ٹائم کے مطابق مغرب میں شائع شدہ کتب و رسائل میں دیا جاتا ہے اور یہ ان ممالک کے لیے درست ہے جو برطانیہ سے قریبی ہیں لیکن بہت زیادہ فاصلے پر جو ملک ہیں وہاں اس میں فرق آجاتا ہے اور پھران ممالک کے ماہرین نجوم اپنے ملک کے وقت مطابق اسے تبدیل کرلیتے ہیں، یہی تبدیلی سیاروں کے بروج میں داخلے کی تاریخ میں بھی تبدیلی لاسکتی ہے۔
اس تبدیلی کو مدنظر رکھ کر اپنے ملک کی ضرورت کے مطابق تمام بروج میں شمس کے داخلے کا چارٹ بنایا جاتا ہے۔ اس چارٹ میں ایک لحاظ یہ رکھنا پڑتا ہے کہ جو تاریخ دی جائے وہ پوری طرح متعلق بروج کا احاطہ کرتی ہو یعنی ادھوری نہ ہو۔ ادھوری سے مراد یہ ہے کہ اگر شمس 20 مارچ کو برج حمل کے درجہ اول پر آرہا ہے اور اس کے داخلے کا درست وقت پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شام 5 بج کر 32 منٹ ہے تو اصولاً اس مقررہ وقت سے پہلے تو وہ برج حوت کے آخری درجے پر ہوا۔ اب اگر کسی بچے کی پیدائش 20 مارچ کو اس وقت سے قبل دن میں کسی وقت یا صبح سے پہلے ہوئی ہے تو اس کا شمسی برج حوت ہوگا، حمل نہیں۔ اسی طرح کسی سال میں اگر برج حمل میں تحویل آفتاب 20 مارچ کو دوپہر 12 بج کر 36 منٹ پر ہوئی تھی تو ایسے دن کو بھی ادھورا دن ہی کہیں گے۔ 20 مارچ 2000ء کو 12 بج کر 36 منٹ سے قبل پیدا ہونے والے برج حوت کے زیر اثر اور بعد میں پیدا ہونے والا برج حمل کے ماتحت۔ ہم نے اوپر جو اوقات دیے ہیں ان میں 5 گھنٹے کم کردیں تو گرین وچ مین ٹائم نکل آئے گا یعنی 20 مارچ 2000ء کو شمس G.M.T کے مطابق صبح سات بج کر 32 پر برج حمل میں داخل ہوا۔ اب ایسے مشکوک دن کی بنیاد پر مستقل استعمال میں آنے والا چارٹ نہیں بنایا جاسکتا۔ اس تناظر میں 21 مارچ ہی حتمی تاریخ رہے گی کہ اس تاریخ کو شمس کی برج حمل میں موجودگی یقینی ہے۔ بس یہی فرق دیگر بروج کی ابتدائی تاریخوں میں بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ امریکا کے اوقات کے مطابق تو یہ فرق اور بھی واضح ہوجاتا ہے اور ہمارے ملک میں امریکا سے بھی کتب و رسائل منگا کر ان کا ترجمہ شایع کیا جاتا ہے۔ بلکہ ’’یہ ہفتہ کیسا گزرے گا‘‘ کے عنوان سے ترجمہ شدہ مواد پڑھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ باتیں ہمارے ملک اور معاشرے کے لیے نہیں لکھی گئی ہیں۔ ہمارے مسائل اور دلچسپیاں کچھ اور ہیں، چھٹی اور تفریح کے دن کچھ اور ہیں۔ ہمارے مسائل اور مشاغل کچھ اور ہیں جبکہ ترجمہ شدہ پیش گوئیوں اور مشوروں میں ہمیں ویک اینڈ کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہوتا ہے، ہفتے یا اتوار کو ’’گارڈننگ‘‘ کا مشورہ دیا جا رہا ہوتا ہے۔ خیر یہ تو ضمناً ذکر نکل آیا، اصل بات وہی ہے کہ ایسے کالموں میں بروج کی ابتدائی و انتہائی تاریخیں بھی وہی لکھ دی جاتی ہیں جو وہاں کے اوقات کے مطابق ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک کے پڑھنے والے اس کی وجہ سے الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔
اب اس سلسلے میں ایک نکتے کی وضاحت ضروری ہے ، وہ افراد جو ایسی تاریخوں میں پیدا ہوتے ہیں جب شمس برج تبدیل کر رہا ہوتا ہے تو انھیں اپنے درست برج کے سلسلے میں کسی ماہر نجوم سے مشورہ ضرور کرلینا چاہیے اور اس درستی کے لیے وقت پیدائش کا معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔
برجوں سے متعلق حروف کا مسئلہ بھی خاصہ متنازعہ ہے۔مغرب میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہاں علم نجوم سے متعلق امور صرف تاریخ پیدائش کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں، یہ مسئلہ صرف برصغیر کی پیداوار ہے اس کی وجہ ہندی جوتش کے اصول و قواعد ہیں جن کی رو سے ہندی زبان کے حروف تہجی کو مختلف بروج سے منسوب کردیا گیا ہے اور جواب میں مسلمان منجمین نے بھی اس کی تقلید کی اور اپنے الگ اصول و قواعد مقرر کرلیے۔ الگ اس لیے کہ ہندی اور اردو زبان کے حروف تہجی میں فرق ہے۔ اب یہ ہمیں تحقیق نہیں ہوسکا کہ برصغیر میں آنے سے پہلے مسلمان (عرب اور ایرانی) منجمین کا اس معاملے میں کیا موقف تھا اور وہ حروف و بروج کے باہمی تعلق کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔ علم جعفر کے تحت اس سلسلے میں جو اصول و قواعد ہیں انھیں علم نجوم کے معاملات سے الگ ہی رکھنا چاہیے۔ اسی طرح حروف کا بروج سے تعلق اور اثر بھی ہمارے تجربے پر پورا نہیں اترا، اس لیے ہم بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ پاکستان کے معتبر اور مستند منجمین کی کتابوں اور جنتریوں میں ہرچند کہ بروج کے ساتھ حروف بھی دیے جاتے ہیں لیکن اولیت تاریخ پیدائش سے برج معلوم کرنے کو ہی دی جاتی ہے اور یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ اگر تاریخ پیدائش معلوم نہ ہو تو نام کے پہلے حرف سے کام چلائیں۔
ہمارا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ چونکہ ہمارے ملک میں اپنی تاریخ پیدائش وغیرہ کا ریکارڈ رکھنے کا رواج نہیں رہا ہے لہٰذا پیشہ ور حضرات نے ضرورت مندوں کو نام کے پہلے حرف کے چکر میں پھنسانے کی کوشش کی ہے جو رواج پاگئی ہے۔ خصوصاً اخبار و رسائل، جنتریوں وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ایسے سلسلۂ مضامین کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح نام کے پہلے حرف سے موافق نگینہ تجویز کرنا بھی ہم مناسب نہیں سمجھتے بلکہ اسے بہت بڑا فراڈ تصور کرتے ہیں۔ نگینہ تجویز کرنا بالکل ایسا ہے جیسے کسی بیمار کے لیے دوا تجویز کرنا اور دوا اس وقت تک درست تجویز نہیں ہوسکتی جب تک مرض کی تشخیص بالکل درست نہ ہوجائے اور یہ کام صرف نام کے پہلے حرف سے تو کجاصرف تاریخ پیدائش سے بھی نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے تو باقاعدہ مکمل زائچہ بناکر زائچہ میں موجود سیارگان کے ناقص اثرات اور زائچے کے مختلف خانوں کی قوت و ضعف کو جانچنا ضروری ہے اور اس کے مطابق ہی کوئی پتھر، صدقہ یا دعا، وظیفہ یا نقش و طلسم تجویز کیا جائے۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے۔
آپ نے بروج کے عنصر اور حروف کے عناصر میں اختلاف کا ذکر کیا ہے تو ہماری مذکورہ بالا تشریح کے بعد اس کی اہمیت ویسے بھی ختم ہوجاتی ہے لیکن آپ کی مزید تسلی کے لیے یہ بھی عرض کردیں کہ حروف کے درمیان عناصر کی تقسیم کا فارمولا علم جعفر کے تحت ہے، نہ کہ علم نجوم کے تحت، حروف کی بلحاظ عناصر باہمی دشمنی اور دوستی کو آپ بروج کی عنصری تقسیم کے تناظر میں نہ دیکھیں۔ بہرحال ہم تو اپنے ذاتی نظریات کا پہلے ہی اظہار کرچکے ہیں۔
علم الاعداد کے ذریعے نام کے اعداد نکالتے وقت ہمزہ (ء) کا عدد ایک شمار ہوگا، مثلاً رئیس، عائشہ، صائمہ، شائستہ وغیرہ میں لیکن علم جعفر کے مسائل میں جب آپ ابجد قمری سے کام لیں گے جو ایک سے ایک ہزار تک حروف کی قیمتیں بتاتی ہے اور اسم اعظم کے استخراج کے لیے ہم دے چکے ہیں تو ان ناموں میں ہمزہ کے دس عدد لیے جائیں گے۔ کیونکہ ہمزہ ’’ی‘‘ کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ طوبیٰ یا رحمن وغیرہ میں کھڑے الف کے اعداد نہیں لیے جائیں گے۔ بلکہ کسی لفظ میں بھی کھڑا حرف آئے تو اس کے اعداد نہیں شمار کریں گے۔
محترم! امید ہے کہ آپ کی تسلی و تشفی ہوگئی ہوگی، آپ نے واقعی بہت عمدہ سوالات اٹھائے جن کی وجہ سے ہمارے دیگر قارئین بھی ان الجھنوں کے پھیر سے نکل سکیں گے جو آپ کو درپیش تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں