کون سے عملیات خطرناک اور نقصان دہ ہیں اور کون سے بے ضرر و محفوظ

پاکستان میں ڈاک کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے،لوگ پاکستان پوسٹ کے ذریعے خط و کتابت یا پارسل وغیرہ یا منی آرڈر بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں، عام خطوط کا تو ذکر ہی کیا، رجسٹرڈ ڈاک بھی وقت پر نہیں پہنچتی یا غائب ہوجاتی ہے،ہم نے پاکستان پوسٹ کا بہت اچھا زمانہ بھی دیکھا ہے اور اب خدا یہ وقت بھی دکھا رہا ہے، ہم خود بھی اب کورئر سروس ہی کو ترجیح دیتے ہیں حالاں کہ اس طرح اخراجات بڑھ جاتے ہیں، محکمہ ء ڈاک کا یہ انجام کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کیوں کہ موجودہ دور میں پاکستان کے تقریباً تمام ہی محکمہ جات اسی زبون حالی کا شکار ہیں، اس کی وجہ سندھ میں کوٹا سسٹم اور دیگر صوبوں میں رشوت اور اقربا پروری ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سندھ میں رشوت اور اقرباپروری نہیں ہے، سندھ تو اس حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے،جب میرٹ کا گلا گھونٹ کر نا اہلوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی کیا جائے گا تو نتائج ایسے ہی ہوں گے۔
اس گلے شکوے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہمیں ایک خط موصول ہوا جو گزشتہ رمضان سے پہلے روانہ کیا گیا تھا، خط لکھنے والی ایک خاتون ہیں جنہوں نے کچھ ضروری سوالات کیے ہیں، اس قدر تاخیر کے باوجود بھی ہم اس خط کا جواب دینا چاہتے ہیں کیوں کہ خط میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ یقیناً عام لوگوں کے ذہن میں بھی ہوسکتے ہیں، آئیے پہلے خط کا مطالعہ کرتے ہیں۔
ایس آر صاحبہ لکھتی ہیں ’’میں آپ کا آرٹیکل پابندی سے پڑھتی ہوں،ا یسے اور اس سے ملتے جلتے بہت سے آرٹیکل دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن آپ کا انداز تحریر اور کسی بھی موضوع پر وضاحت سے بات کرنے کا انداز مجھے پسند ہے،کافی پہلے آپ نے اسم اعظم اور حل المشکلات کے حوالے سے قارئین کو بیش قیمت تحفہ عنایت کیا تھا، جن لوگوں نے اس سے فیض حاصل کیا وہ اس کی قدروقیمت کا اندازہ کرچکے ہوں گے، سونے پر سہاگا یہ کہ آپ نے اس موضوع پر مسلسل لوگوں کی رہنمائی کی اور چھوٹی سے چھوٹی بات کی بھی وضاحت کرتے رہے، میں بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہوں نے اس نعمت عظیم سے فیض حاصل کیا، میں آپ کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو مزید بڑھائے اور اثر انگیز بنائے، آپ نے بنا کسی بخل کے اپنے علم کو عام کیا۔
’’میرے خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اسم اعظم کے حوالے سے ایک اور صاحب نے یہ لکھا کہ اس کا نقش مشک اور آب زم زم سے لکھ کر پاس رکھنا ضروری ہے نیز ورد میں کوئی غلطی یا ناغہ یا زیر زبر کی غلطی سے شدید ردعمل ظاہر ہوتا ہے،بجائے فائدے کے نقصان ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ جلالی و جمالی پرہیز بھی ضروری ہے۔
’’آپ کی طرف سے اسم اعظم کی دعوت کے موقع پر ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں تھی، امید ہے کہ وضاحت فرمائیں گے تاکہ شکوک وشبہات دور ہوکر ذہن پرسکون ہوجائے، آپ خود اس معاملے کی اہمیت ہم سے بہتر سمجھ سکتے ہیں،ایک زحمت آپ کو یہ دے رہی ہوں کہ میں نے اپنے لیے جو اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں وہ تفصیل سے آپ کو لکھ رہی ہوں،آپ صرف یہ بتادیں کہ مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی، میں نے صرف 20 دن میں ان بابرکات اسمائے الٰہی سے پورا پورا فیض حاصل کیا ہے،میں ایک بار پھر آپ کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے درخواست کرتی ہوں کہ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس کا کھلا ورد کوئی خاص شرائط کا پابند تو نہیں ہے نیز جن لوگوں نے اسے اپنے نام کے اعداد کی مقدار میں پڑھا ہے وہ کھلا ورد کرسکتے ہیں اور کس طرح؟
’’دوسری عاجزانہ درخواست یہ ہے کہ میرا بیٹا جو کہ 17 سال 10 ماہ کا ہے اس وقت میرے گھر کا بڑا بیٹا ہے،میں چاہتی ہوں کہ صالح، ذمے دار اور والدین کا فرماں بردار ہو جب کہ اس میں یہ تینوں صفات نظر نہیں آرہی ہیں، انتہائی غصہ ور، نافرمان ہے،میں اس کے لیے بہت ہی زوداثر اور کسی بھی نقصان سے پاک عمل تجویز کرنے کی درخواست کر رہی ہوں، امید رکھتی ہوں کہ قریبی اشاعت میں جواب عنایت فرمائیں گے‘‘
جواب: قریبی اشاعت میں جواب تو ممکن نہیں ہوسکا، اس کی ذمے داری ہمارے محکمہ ء ڈاک پر ہے،خدا ان لوگوں کو ہدایت دے جو اپنے رزق حلال کو حرام کر رہے ہیں۔
عزیز بہن! ہماری تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ اور آپ نے اسمائے الٰہی سے جو فیض حاصل کیا اس کے لیے مبارک باد،آپ نے اسم اعظم کے حوالے سے کسی صاحب کی جو رائے لکھی ہے وہ اشتہاری ہے اور ایسی باتیں نہ لکھی جائیں تو لوگ ان سے رجوع ہی نہ کریں، اب بھلا مشک کوئی کہاں سے لائے گا؟ آج کل غالباً لاکھ سوا لاکھ روپے تولہ ہوگا، مجبوراً ضرورت مند کو پھر ایسے مشتہرین کے پاس جانا پڑتا ہے اور وہ ان سے مشک کے پیسے ٹھیک ٹھاک طریقے سے وصول کرلیتے ہیں، اسی طرح نقش کی شرط عائد کرکے ضرورت مند کو پابند کردیا جاتا ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں کیوں کہ ہر شخص تو نقش تیار کرنے کے اصول و قواعد نہیں جانتا اور نہ ہی ایسے اشتہاروں میں یہ قواعد بتائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ورد میں کسی غلطی یا ناغے کی صورت میں شدید ردعمل سے ڈرانا ، فائدے کے بجائے نقصان کا خوف دلانا، جلالی و جمالی پرہیز کی خصوصی شرائط عائد کرنا، یہ تمام باتیں صرف اور صرف اس لیے ہیں کہ ضرورت مند گھبراکر مشتہرین سے رابطہ کرے اور ہاتھ جوڑ کر عرض گزار ہو کہ سرکار یہ سب تو ہم سے نہیں ہوسکتا، آپ ہی ہماری کچھ مدد فرمائیے، آپ جو نذرانہ چاہیں گے وہ میں پیش کرنے کو تیار ہوں۔
یہ تھی اُس صورت حال کی وضاحت جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے،اب ذرا اس مسئلے کو سمجھ لیجیے کہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی کیا اہمیت رکھتی ہے اور یہ اہمیت کس جگہ مؤثر ہے اور کس جگہ غیر مؤثر؟ اس کے علاوہ کسی بھی ورد یا وظیفے یا عمل میں رجعت یا شدید ردعمل ظاہر ہونے کا خوف کہاں ممکن ہے اور کہاں نہیں؟ ساتھ ہی ہم اس کی بھی وضاحت کردیں کہ پرہیز جلالی و جمالی کہاں ضروری ہوتا ہے اور کہاں غیر ضروری؟
ایسے تمام عملیات، وردو وظائف جو انسان اپنی جائز اور حقیقی ضروریات کے تحت اللہ سے استعانت کے لیے اختیار کرتا ہے ان میں قبولیت اور اثر پذیری کا معاملہ انسان کی نیت اور ضرورت کی شدت و درستگی نیز مقصد کی سچائی اور طلب اور لگن سے مشروط ہوتا ہے، چھوٹی موٹی غلطیاں اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ قبول کرنے والا، مشکل حل کرنے والا ، نیتوں کا حال جاننے والا ، ہماری ضروریات کے جائز و ناجائز کا فیصلہ کرنے والا ، ہماری تمام کمزوریوں اور خوبیوں سے بہ خوبی واقف ہے، وہ ہماری دعا کو قبول کرتا ہے اور اس کے بعد ہمیں وہی کچھ دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہے جب کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے؟ لہٰذا ایسے اعمال و وظائف میں کسی رجعت یا شدید ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا جن میں انسان اپنی جائز ضروریات کے لیے کسی بھی طریقے سے اپنے رب کو پکار رہا ہو، نہ ہی ایسے اعمال و وظائف کے لیے کسی جلالی و جمالی پرہیز کی ضرورت ہوتی ہے،ہاں البتہ کچّا لہسن ، پیاز، کھانے سے اس لیے منع کیا جاتا ہے کہ اس کی بو دیر تک قائم رہتی ہے اور ملائکہ کو بھی ناپسند ہے،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کچّا لہسن پیاز کھاکر ہماری مسجد میں نہ آئیں، اس کی بو سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،حضورﷺ کے اس ارشاد کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے بابرکت ناموں کا ورد کرتے ہیں یا دیگر کلام الٰہی اکثر اپنے ورد میں رکھتے ہیں انہیں کچے لہسن پیاز سے پرہیز کرنا چاہیے، بس اتنی سی بات ہے، پرہیز کے معاملے میں۔
اب ذرا یہ مسئلہ بھی سمجھ لیجیے کہ پرہیز اور کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کون سے عملیات و وظائف میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے،سب سے پہلے اس ذیل میں وہ اعمال و وظائف آتے ہیں جن کے ذریعے انسان سپر نیچرل قوتوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہوتا ہے یعنی کوئی شخص جنات، ہمزاد یا کسی اور نوعیت کی قوتوں کے حصول کے لیے کوشش کررہا ہو یا پھر کسی ناممکن ایسی خواہش کی تکمیل کے لیے عمل و وظائف کر رہا ہو جن کا وہ اہل ہی نہیں ہے،مثلاً ایک شخص اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی ملک کی وزارت اعظمیٰ کے حصول کے لیے عمل ، چلّے ، وظائف وغیرہ شروع کردے یا ایسی ہی کچھ اور خواہشات بھی ہوسکتی ہیں ، لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ جوئے سٹّے، ریس، انعامی بانڈ کی پرچی وغیرہ یا لاٹری کی اسکیموں میں نمبر وغیرہ معلوم کرنے کے لیے بھی عمل و وظائف کرنا شروع کردیتے ہیں، اپنی پسند کی جگہ شادی کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے،حالاں کہ اللہ نے کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ طاقت و قوت سے یا عمل و وظیفے سے کسی کو زبردستی اپنی بیوی یا شوہر بنانے کی کوشش کرے،ایسے تمام عملیات اور وظائف یقیناً خطرناک قرار دیے جاسکتے ہیں جن میں انسان اپنی خواہشات کا غلام ہوکر سرگرم ہوتا ہے،ان کا نتیجہ اکثر خراب ہی نکلتا ہے لہٰذا بات اتنی ہی ہے کہ اگر آپ اپنی جائز اور حقیقی ضروریات اور پریشانیوں کے لیے اللہ سے اس کے کلام یا اسمائے الٰہی کے ذریعے دست بہ دعا ہوتے ہیں تو نہ آپ کو کسی خاص پرہیز کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی بات کا خوف ہونا چاہیے جب کہ اس کے برعکس صورت حال میں معاملہ بھی برعکس ہوگا۔
ایک اور نکتہ یہاں وضاحت طلب ہے اور وہ یہ کہ اپنی ذات سے متعلقہ مسائل کے حل کی حد تک انسان کو تمام اختیارات حاصل ہیں اور وہ اپنے اعمال و افعال میں آزاد اور خود مختار ہے لیکن جب معاملہ یا مسئلہ کسی دوسرے فریق سے منسلک ہوجائے تو پھر بات مختلف ہوجاتی ہے جیسا کہ پسند کی شادی کے سلسلے میں پہلے حوالہ دیا جاچکاہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی جگہ شادی کرے اور وہاں اس کی شادی نہیں ہورہی اور شادی نہ ہونے کی وجوہات میں دوسرے فریق یا اس کے والدین کا راضی نہ ہونا شامل ہے ، ایسی صورت میں اس معاملے کو صرف فریق اول کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کی مرضی کے خلاف کسی بھی ذریعے سے کوئی اقدام کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو نقصان کا موجب ہوسکتا ہے، اسی طرح عملیات و وظائف کے ذریعے اپنے مخالفین ناپسندیدہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی کرنا اکثر اوقات خود اپنے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے،یاد رکھیے آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے مگر محض کسی مفروضے یا قیاس کی بنیاد پر دوسروں کو دشمن قرار دے کر ان کے خلاف جارحانہ کارروائی خود اپنے لیے نقصان اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ نے اپنے لیے درست اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں، بے خوف و خطر اسے اپنے ورد میں رکھیے، باضابطہ پڑھنے کا طریقہ ہم پہلے سمجھا چکے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر بھی اسم اعظم کا کالم موجود ہے اس میں تفصیل دی گئی ہے، کھلے ورد کے لیے کوئی قید نہیں، اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے فرصت کے اوقات میں کھلا ورد کیجیے، جن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ان سے ہر مسلمان خود آگاہ ہوتا ہے یعنی پاک صاف رہا کریں اور پاکی کی حالت میں ہی اسمائے الٰہی اور کلام الٰہی کا ورد جائز ہے، اپنے صاحب زادے کے لیے اسمائے الٰہی کے ورد کے بعد دعا کیا کریں،زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ آپ ان کے تمام کوائف اور حالات ہمیں لکھ دیتیں یعنی تاریخ پیدائش وغیرہ تو پھر ہم زیادہ بہتر طور پر کوئی مشورہ دے سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں