زہرہ اور مشتری کا قران اور اس کی اہمیت و افادیت کے اہم پہلو

جناب آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی آج کل اخبارات و ٹی وی چینلز کا خصوصی موضوع ہیں، زرداری صاحب کے ساتھ ان کی بہن فریال تالپور صاحبہ کا نام بھی نمایاں ہورہا ہے، بعض پرانے کیس جو نواز شریف صاحب کے دور میں شروع ہوئے تھے،زرداری صاحب کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، اکثر ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں جن میں ان کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، ویسے تو وہ خود بھی گرفتار ہوکر جیل جانے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں، حالاں کہ اس عمر میں ان کا جیل جانا مناسب نہیں ہوگا، ان کی صحت کے معاملات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں، سیاست اور قانون کے مسائل کیا ہیں، یہ ہمارا موضوع نہیں ہے، چوں کہ وہ آج کل خبروں میں نمایاں ہیں تو ہم ان کے زائچہ ء پیدائش کی روشنی میں اپنی معروضات پیش کریں گے۔
زرداری صاحب کے زائچہ ء پیدائش میں سیارہ مشتری راہو کیتو کے محور میں بری طرح پھنس کر متاثرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل نہیں کرسکے، مزید یہ کہ زائچے کے چھٹے گھر کا حاکم عطارد بھی مشتری کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، عطارد ان کے زائچے کا فنکشنل منحوس سیارہ ہے، اب خرابی یہ ہے کہ زرداری صاحب 31 جولائی 2017 ء سے سیارہ مشتری کے دور سے گزر رہے ہیں اور یہ دور 11 فروری 2020 ء تک جاری رہے گا، مشتری اگرچہ ان کا سعد سیارہ ہے لیکن خراب اثرات سے متاثرہ ہونے کی وجہ سے یہ دور اُن کے لیے قانونی مسائل کا سبب بن رہا ہے، گزشتہ سال اکتوبر سے سیارہ مشتری ان کے زائچے کے آٹھویں گھر میں حرکت کر رہا ہے، یہ مزید خرابی کا باعث ہے، چناں چہ قانونی مسائل اور قسمت کا کھیل ان کے ساتھ شروع ہوچکا ہے جس کا انجام فی الحال اچھا نظر نہیں آتا، ان کی مثال پیپلز پارٹی کے سمندر میں سب سے بڑے جہاز کی سی ہے اور یہ جہاز بہر حال بھنور میں پھنس چکا ہے، بے شک وہ غیر معمولی سیاسی سوجھ بوجھ اور قانونی داؤ پیچ سے واقف ہیں مگر جب وقت ناسازگار ہو تو سب تدبیریں الٹی ہوجاتی ہیں، جنوری کا مہینہ اس حوالے سے خاصا اہم ہے، اس ماہ کی 20 تاریخ سے 31 جنوری تک صورت حال اس حد تک خراب ہوسکتی ہے کہ انھیں مزید ضمانت نہ مل سکے اور ان کی گرفتاری کی خواہش پوری ہوجائے (واللہ اعلم بالصواب)
***
زمانہ ء قدیم سے علم نجوم میں سیارہ زہرہ اور مشتری کو سعد اکبر قرار دیا جاتا ہے،اگرچہ یہ نظریہ بعض صورتوں میں قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ دونوں سیارگان ضروری نہیں ہیں کہ ہر شخص کے لیے سعادت کا اثر رکھتے ہوں لیکن ایک اصول علم نجوم کا اپنی جگہ اٹل ہے اور وہ یہ کہ دونوں سیارگان ہر شخص کے زائچے میں زندگی کے مخصوص معاملات کی نمائندگی کرتے ہیں، سیارہ زہرہ مرد کے زائچے میں شریک حیات کی نمائندگی کرتا ہے اور سیارہ مشتری عورت کے زائچے میں اس کے شریک حیات کا نمائندہ ہے،اس کے علاوہ سیارہ زہرہ شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں کی بھی نمائندگی کرتا ہے، عورت ہو یا مرد اگر زہرہ زائچے میں کمزور یا منحوس اثرات سے متاثرہ ہو تو شادی میں تاخیر، شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے محرومی اور بعض صورتوں میں طلاق کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے، اسی طرح اگر مشتری بھی کمزور یا متاثرہ ہو تو عورت یا مرد دونوں کے ترقیاتی امور متاثر ہوتے ہیں، مشتری وسعت اور پھیلاؤ سے متعلق امور میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ان حقائق کی روشنی میں دونوں سیارگان کی اہمیت اور حیثیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
قران السعدین
اس سال 22 جنوری کو یہ دونوں سیارگان باہم ملاپ کریں گے جسے اصطلاحی طور پر ’’قران السعدین ‘‘ کہا جاتا ہے، اس قران کی سعادت علمائے جفر کے نزدیک ہمیشہ اہم رہی ہے اور اس موقع پر اہم نقوش و طلسمات تیار کیے جاتے ہیں، زہرہ اور مشتری کے قران کی ابتدا 21 جنوری سہ پہر 03:06 pm سے ہوگی اور اختتام 23 جنوری شام 07:35 pm پر ہوگا، اس تمام وقت میں زہرہ اور مشتری کی ساعتیں اہم ہوں گی، اس وقت پر زہرہ اور مشتری سے متعلق جفری اعمال کیے جاسکتے ہیں جو یقیناً مؤثر اور کارآمد ہوں گے۔
بیرون ملک مقیم ہمارے قارئین کی سہولت کے لیے ہم یہاں قران کا جی ایم ٹی ٹائم بھی لکھ رہے ہیں، آپ دنیا میں کسی بھی ملک یا شہر میں ہیں یقیناً جی ایم ٹائم سے اپنے ملک اور شہر کا فرق جانتے ہوں گے لہٰذا اس فرق کو جی ایم ٹی ٹائم میں جمع یا تفریق کرکے اپنے شہر کا درست وقت معلوم کرسکتے ہیں، جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق قران کا آغاز 21 جنوری کو 10:06 am پر ہوگا اور اختتام 23 جنوری کو 02:35 pm پر ہوگا۔

ایک طلسمی انگوٹھی کا خفیہ راز

مشتری انسانی زندگی کے اہم ترین معاملات و مسائل پر اثر انداز ہوتا ہے ، مثلاً اعلیٰ تعلیم کا حصول ، اچھی جاب ، معقول شوہر ، بیرون ملک سفر ، حج و عمرہ کی سعادت ، کاروباری معاملات میں وسعت و ترقی ، انعامی اسکیموں میں خوش بختی اور شادی میں رکاوٹ یا تاخیر کوختم کرنے میں بھی مشتری کی سعادت اہم حیثیت رکھتی ہے ، خاص طورپر لڑکیوں کے زائچے میں جدید علم نجوم کی تحقیقات کے مطابق مشتری ایک بہتر شوہر کے انتخاب میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔
اگر مشتری کی پوزیشن زائچہ پیدائش میں کم زور ہو اور وہ زائچے کے پہلے ، دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، آٹھویں یا بارھویں گھروں میں سے کسی گھر کا مالک ہو اور کم زور پوزیشن رکھتا ہو یا کسی منحوس ستارے سے متاثرہ ہو تو شادی میں تاخیر ، ناکارہ ، نکھٹو ، جاہل ، ظالم اور کنجوس شوہر ملتا ہے ۔
ایسی صورت میں منجم حضرات مشتری کا منسوبی پتھر پیلا پکھراج کسی اچھے وقت میں پہننے کا مشورہ دیتے ہیں (اچھے وقت سے مراد یہ ہے کہ اُس وقت مشتری باقوت ہو اور زائچے میں طالع کے درجات سے ناظر ہو) یا مشتری کا منسوبی نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے دائیں ہاتھ کی پہلی انگلی یا رنگ فنگر میں پہنایا جاتا ہے ، ساتھ ہی مشتری کے مخصوص صدقات پابندی سے دینے کی ہدایت کی جاتی ہے تو تھوڑے ہی عرصے میں لڑکی کی نصیب کشائی کا سامان ہوجاتا ہے ۔
یہی صورت مرد حضرات کے ساتھ اس وقت پیش آتی ہے جب سیارہ مشتری زائچے کے پہلے ، دوسرے ، چوتھے ، پانچویں ، ساتویں ، نویں ، دسویں ، گیارھویں اور بارھویں گھر کا حاکم ہو اور زائچے میں کم زور پوزیشن رکھتا ہو ، منحوس گھروں میں ہو یا کسی منحوس کے ساتھ حالت قران میں ہو یا کسی منحوس کی نحس نظر کا شکار ہو۔
ایسی صورت میں ذاتی صلاحیتوں میں کمی ، ذہانت اور تعلیم سے محرومی ، خوش بختی اور عمدہ شعور کا فقدان ، جاہل اور نامعقول شریک حیات ، بیرون ملک سفر میں رکاوٹ یا بیرون ملک جانے کے بعد ناکامیاں ، کاروبار میں اور عزت و وقار میں نامرادی ، اولاد سے محرومی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں چناں چہ عام منجمین پیلا پکھراج پہننے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں مشتری کا پتھر استعمال کرنا نقصان دہ بھی ثابت ہوجاتا ہے ، وہ کچھ دوسری خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے ، خاص طورپر جب مشتری زائچے کے چھٹے ، آٹھویں اور بارھویں گھر کا مالک بھی ہو اور ان گھروں پر برج قوس قابض ہو تو مشتری کا منسوبی پتھر کچھ نئی خرابیاں اور مسائل پیدا کرتا ہے ، ایسی صورت میں بہترین بات یہی ہوتی ہے کہ مشتری کا نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے خاص وقت پر پہنایا جائے ، قدیم زمانوں سے یہ طریقہ کار رائج ہے اور سات سیارگان کے ساتھ راس و ذنب کے نقش مثلث بھی اس حوالے سے مستعمل ہیں ۔
خاتم مشتری نہ صرف یہ کہ زائچہ پیدائش میں مشتری کی پیدائشی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے بلکہ چوں کہ مشتری کا تعلق مال و دولت ، وسعت و ترقی اور فہم فراست سے ہے لہٰذا اس انگوٹھی کو پہننے والا جس کام میں بھی ہاتھ ڈالے ، کامیاب و کامران رہتا ہے ، اس کا ہاتھ روپے پیسے سے خالی نہیں رہتا ، انعامی اسکیموں میں شرکت فائدے کا باعث ہوتی ہے ، وہ اپنے کاموں میں معقول حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور ایسے راستوں سے بچتا ہے جو اسے نقصان یا کسی تباہی کی طرف لے جائیں ۔
اس حوالے سے حسبِ وعدہ ہم اپنا مخصوص طریقہ کار قارئین کی نذر کر رہے ہیں ، یہ سینے کے وہ راز ہیں جنہیں لوگ عام نہیں کرتے ، وما توفیقی اللہ باللہ۔
’’ نقش خاتم مشتری ‘‘ ابتدا میں دے دیا گیا ہے ، اسے مشتری کے شرف ،اوج یا ایسے اوقات میں تیار کیا جاسکتا ہے جب مشتری باقوت اور نحوست سے پاک ہو، قران السعدین بھی ایسا ہی وقت ہے ، اس نقش کو چاندی یا سونے کی انگوٹھی پر ساعت مشتری میں اس وقت کندہ کیا جائے یا ڈھال لیا جائے جب قمر بھی باقوت ہو اور موافق برج میں ہو ، مشتری سے قربت یا دوستانہ نظر رکھتا ہو، اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشتری کی سعد ساعت کا انتخاب کیا جائے اور پہلے سے تمام تیاری مکمل کرلی جائے، چوں کہ زہرہ اور مشتری حالت قران میں ہیں، گویا ایک جان دو قالب ہیں لہٰذا مقررہ وقت میں زہرہ کی ساعت بھی قابل عمل ہوگی۔
مشتری اور زہرہ کا بخور اور خوشبو استعمال کریں ،مشتری کے بخورات میں مشہور حب الغار ہے لیکن یہ آسانی سے دستیاب نہیں ہے لہٰذا صندل سُرخ اور صندل سفید ، لوبان، عود وغیرہ سے کام لیا جاسکتا ہے،اگر انگوٹھی پہلے سے تیار نہ ہو تو چاندی کے پترے پر نقش کندہ کرکے رکھ لیں اور بعد میں اس پترے کو چاندی کی انگوٹھی میں جڑوالیں ، یہ نقش کسی زرد یا سبز رنگ کے نگینے پر بھی لکھا جاسکتا ہے مگر ظاہر ہے یہ کام عام لوگوں کے بس کا نہیں ہے ، اس سلسلے میں ہم سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ہم چاندی کے علاوہ مشتری کے منسوبی پتھر پیلے جیڈ پر لوح مشتری نورانی اور خاتم مشتری تیار کرتے ہیں ۔
اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نقش کا دائرہ اور اندرونی خانے ہر قسم کی خامی سے پاک ہوں ، کیوں کہ ان خانوں کے مخصوص زاویے بھی ایک طلسمی اثر رکھتے ہیں ، نقش کے درمیان میں مشتری کا طلسم ہے ، اسے بھی مکمل صفائی اور درستگی کے ساتھ بنانا ضروری ہوگا ۔
مخصوص ڈیزائن میں درحقیقت یہ 9 خانوں کا مثلث نقش ہے ، جس کی چال آتشی ہے ، یعنی پہلا خانہ عدد 5 کا ہے اور اس کے بعد بالترتیب 6 ، 7، 8، 9 ، 10 ، 11 ، 12 اور 13 عدد لکھے جائیں گے ،بعد ازاں انگوٹھی کو کسی ایسے وقت پر پہنا جائے جب سیارہ مشتری باقوت ہو، ایسا وقت تلاش کرنا عام لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے، ہم اس سلسلے میں رہنمائی کرسکتے ہیں، دوسرا طریقہ یہ ہوگا کہ کسی بھی نوچندی جمعرات کو صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد مشتری کی پہلی ساعت میں پہن لیا جائے اور حسب توفیق صدقہ و خیرات کیا جائے، مشتری کے صدقات میں زرد رنگ کی اشیا کو اولیت حاصل ہے، زردہ، زرد مٹھائی، زرد حلوہ وغیرہ یا چنے کی دال دی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں