اکلٹ سائنسز کے حوالے سے نت نئے تماشے سامنے آتے رہتے ہیں

مسلمان جب ہندوستان آئے تو اُن کا سابقہ ہندو مذہب اور کلچر سے پڑا۔ ہندو مذہب خاصا قدیم ہے۔ہندو مذہب کے علاوہ برصغیر پاک و ہند میں بدھ مذہب اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود رہی ہے۔بدھ مذہب اور سکھ مذہب کے بانی اور مبلغین کا تعلق چوں کہ ہندو مذہب ہی سے تھا لہٰذا آخر الذکر دونوں مذاہب میں بہت سی روایات اور رسومات ہندو ازم سے مماثل نظر آتی ہیں۔
ترکِ دنیا کا نظریہ بھی ہندو مذہب میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور بدھ مذہب کی تو بنیادی اساس ہی اس پر قائم ہے۔بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ ایک ریاست کے شہزادے تھے اور انہوں نے عین نوجوانی میں اپنا راج پاٹ اور عیش و آرام چھوڑ کر جنگل کی راہ لی ۔
قصہ مختصر یہ کہ ہندوستان میں آباد ہونے کے بعد مسلمانوں میں بھی ترکِ دنیا کا نظریہ شدت اختیار کرنے لگا ۔ اس سے پہلے مسلم صوفیہ بھی یہ راستہ اختیار کرنے میں پیش پیش رہے ہیں ۔ شاید اس کی وجہ عبادت و ریاضت میں زیادہ یکسوئی حاصل کرنا رہی ہوگی لیکن اُن کی تقلید میں بہت سے دیگر افراد بھی دنیا سے بے زاری اور کنارہ کشی کو پسند کرنے لگے ۔ ایسے لوگ معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارتے ہیں یا پھر اپنی حالت ایسی بنالیتے ہیں جس سے دنیا بے زاری ظاہر ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ عام لوگوں سے دور دور رہتے ہیں ۔ نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں اور خود کو اللہ کی یاد میں مشغول رکھتے ہیں ۔ دنیا دار لوگ ایسے لوگوں کو اللہ کے نزدیک خیال کرکے اپنی حاجتوں کے لیے ان سے رجوع کرتے ہیں اور دعا کے طالب ہوتے ہیں ۔ عام لوگوں کا تو خیر ذکر ہی کیا، ماضی میں بادشاہوں نے بھی ایسے اللہ کے نیک بندوں سے دعا کی درخواست کی ہے اور اُن کے دروازے پر پاپیادہ حاضری دینے کو اپنی خوش قسمتی جانا ہے جیسا کہ مغلِ اعظم جلال الدین محمد اکبر پاپیادہ حضرت سلیم الدین چشتی ؒ کے پاس حاضر ہوا تھا ۔
بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کا دنیا سے دوری اختیار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اُن کی نقل میں بہت سے لوگ اپنا حال اور حلیہ ایسا ہی بنالیتے ہیں تاکہ خلقِ خدا کو فریب دے سکیں اور پھر ایسا ہی طرز عمل بھی اختیار کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں ۔ ایسے لوگوں سے سوائے نقصان اور گمراہی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ہمیں اکثر خطوط کے ذریعے یا ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے ایسے قصے سننے کو ملتے ہیں جن میں کسی سفید پوش، بزرگ صورت افراد کی فنکاری کا مظاہرہ سامنے آتا ہے ۔ خود ہم نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا بھی ہے اور اُن سے ملاقات بھی کی ہے۔ایسے لوگوں میں اکثریت عموماً دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک وہ جن کا کام ہی لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو زندگی میں ناکام اور مایوس ہوکر اپنی حقیقی ذمہ داریوں اور فرائض سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔
پہلی قسم تو یقیناً فراڈ اور بے ایمانی کے ذیل میں آتی ہے لیکن دوسری قسم حماقت ، جہالت، نا اہلی، نکما پن اور ہڈ حرامی کے سبب وجود میں آتی ہے ۔ ایسے لوگ خود کو کوئی روحانی شخصیت ظاہر کرکے مفت میں عیش کرتے ہیں اور معاشرے میں معزز ہوجاتے ہیں ، دوسرے معنوں میں مذہب اور روحانیت کی آڑ میں یہ بھی ایک دھوکہ دہی ہے ، ایسے لوگوں کی علمیت مشکوک ہوتی ہے ۔ ان کا طرۂ امتیاز ہی جہالت ہے ، وہ کم علم لوگوں کو ہی بے وقوف بناتے ہیں ۔
برسوں پہلے کا واقع ہے کہ ہمارے ایک دوست نے ہمیں بتایا کہ ایک بڑے پہنچے ہوئے بزرگ کھوکھرا پار سے آگے کسی ویران جگہ پر رہتے ہیں ، ان سے ملنا چاہیے ، ہمیں بھی اشتیاق ہوا اور جیسے تیسے وہاں پہنچ گئے ۔ لوگوں کا کافی ہجوم تھا ۔ آبادی سے الگ تھلگ ایک جھونپڑی بنی ہوئی تھی جس میں وہ صاحب مقیم تھے ۔ دو تین مفت کے خدمت گار بھی انہیں مل گئے تھے لیکن جب ملاقات ہوئی اور اُن کے طور طریقے دیکھے، گفتگو سنی تو اندازہ ہوگیا کہ بھائی صاحب جاہلِ مطلق ہیں اور خدا معلوم کیا افتاد آپڑی تھی کہ یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اکثر لوگ ایسے قصے بھی سناتے ہیں کہ ان کے دروازے پر کوئی بزرگ صورت صاحب تشریف لائے اور پینے کے لیے پانی مانگا اور پھر صورت دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا ۔ کوئی ایسی بات کہہ دی جو صاحبِ خانہ( عورت یا مرد) کے دل میں اتر گئی۔مثلاً یہ کہہ دیا کہ تم پر تو بڑی سختی نظر آرہی ہے یا ایسی ہی کوئی بات جسے سن کر صاحب خانہ متاثر ہوجائے اور اُن کی آؤ بھگت شروع کردے ۔ نتیجے کے طور پر وہ اُس گھر کے مکینوں پر اثر انداز ہوکر کوئی نہ کوئی ہنر دکھا دیتے ہیں ۔ ایسے افراد مزارات پر بھی بکثرت پائے جاتے ہیں اور ہمارے گلی محلوں میں بھی اور بازاروں اور ہوٹلوں میں بھی ۔
عزیزان من ! اس لمبی چوڑی تمہید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ایک خط نے ہمارے ذہن میں ایسے بہت سے واقعات کو تازہ کردیا ۔ آیئے اس خط کا مطالعہ کیجیے ۔
یہ ایک ایسی خاتون نے لکھا ہے جو برسوں سے ہمارے رابطے میں ہیں یعنی اپنے اکثر مسائل و علاج معالجے کے سلسلے میں ہمارے پاس ان کا آنا جانا رہتا ہے ، وہ لکھتی ہیں ۔
’’ آپ کی طرف بہت عرصے سے آنا نہیں ہوا اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ، چھوٹے موٹے معاملات میں فون پر آپ سے مشورہ ہوجاتا ہے ، گزشتہ دنوں بڑی بہن کراچی آئی ہوئی تھیں آپ سے ملنا بھی چاہتی تھیں مگر شادیوں میں شرکت نے اس کا موقع ہی نہیں دیا ، بہر حال ان کا سلام قبول کریں ، دسمبر میں وہ پھر آئیں گی تو ضرور آپ سے ملاقات ہوگی ، یہ خط لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم بیٹھے بٹھائے ایک نئی پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں ، ہوا یوں کہ بہن نے اپنی دو انگوٹھیاں ہمیں دی تھیں کہ سنار سے پالش کرالیں کیونکہ انگلینڈ میں یہ کام ان کے لیے بڑا مشکل ہے ، ہماری بھی ایک انگوٹھی کالی پڑ گئی تھی چنانچہ ہم نے ایک سنار صاحب کی دکان کا رخ کیا اور انگوٹھیاں انہیں اس شرط پر پالش کے لیے دیں کہ فوری چاہئیں ، انہوں نے کہاکہ آپ کو ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑے گا تو وہیں دکان میں بیٹھ گئے ، میرے ساتھ میری بیٹی بھی تھی ۔ ہماری انگوٹھی میں مرجان کا نگینہ ہے اور بہن کی انگوٹھی میں فیروزہ ہے ، یہ نگینے ہم نے آپ کے مشورے سے پہنے تھے ، بہن کی دوسری انگوٹھی بھی آپ کی دی ہوئی ہے جس پر اعداد متحابہ 120 کا نقش ہے ، یہ انگوٹھی آپ بہت پہلے اخبار میں دے چکے ہیں ۔
’’ سنار صاحب کی دکان میں ایک اور صاحب آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے جیسے کسی سوچ میں گم ہوں ، ہم بھی ان کے قریب ہی بیٹھ گئے تو انہوں نے فوراًً آنکھیں کھول کر ہماری طرف غور سے دیکھا اور تھوڑی سی اونچی آواز میں ’’ حق اللہ ‘‘ کہا ، پھر ہمارے چہرے پر نظریں جمادیں ، ان کے اس طرح دیکھنے سے ہمیں کچھ بے چینی اور گھبراہٹ ہونے لگی ، ہم نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا ، سنار صاحب سمجھ گئے کہ ہمیں ان کا اس طرح گھورنا ناگوار گزرا ہے ، انہوں نے کچھ صفائی پیش کرنے کے انداز میں ہم سے کہا ’’ بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ، آپ پریشان نہ ہوں ‘‘ پھر بزرگ صاحب سے مخاطب ہوکر بولے ’’ بابا ان کے لیے دعا کردیں ‘‘ ۔
با با جی نے ان کی بات سن کر ایک گہری سانس لی اور بولے ’’ کیا دعا کریں ، یہ تو بڑے خطرے میں نظر آتی ہیں ‘‘ ان کی یہ بات سن کر ہمیں کچھ تشویش ہوئی اور ہم نے پوچھا ۔
’’ با با جی! آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی ، آپ کس خطرے کی بات کر رہے ہیں ؟ ‘‘
انہوں نے وہ انگوٹھیاں سنار سے مانگیں اور پھر ہم سے پوچھا ’’ یہ تینوں انگوٹھیاں تمہاری ہیں ؟ ‘‘
ہم نے جواب دیا ’’ ایک ہماری ہے اور 2 ہماری بہن کی ہیں جو انگلینڈ سے آئی ہوئی ہیں ۔‘‘ پھر ان کے پوچھنے پر ہم نے بتا دیا کہ کون سی انگوٹھی ہماری ہے اور کون سی ہماری بہن کی ہیں ، اس پر انہوں نے پوچھا کہ تم نے کس کے مشورے پر یہ انگوٹھیاں پہنی ہیں ؟ ہم نے بلا جھجک آپ کا نام لے دیا ، جسے سن کر انہوں نے اپنا سر پکڑ لیا اور فرمایا کہ یہ انگوٹھیاں تم دونوں بہنوں پر بہت بھاری ہیں ، آئندہ انہیں نہ پہننا، تو ہم نے کہا کہ ہم تو کئی سال سے یہ انگوٹھیاں پہنے ہوئے ہیں ، جس پر انہوں نے کہا کہ تمہاری بیماری کی وجہ یہ انگوٹھی ہے اور تمہاری بہن کو بھی جو تکلیفیں ہیں وہ ان انگوٹھیوں کی وجہ سے ہیں ۔
’’ آپ جانتے ہیں کہ ہمیں جوڑوں کے دردوں کی شکایت پرانی ہے اور جب بھی ہم بد پرہیزی کرلیں تو تکلیف بڑھ جاتی ہے، آج کل بھی اس تکلیف میں زیادتی ہے ، ہماری بہن دمے کی پرانی مریضہ ہیں اور اپنی یہ تکالیف ہم انہیں بتا چکے تھے ، بہر حال انہوں نے ہمیں اسی وقت دو تعویذ دیئے اور کہا کہ اگر آنے والے خطرات سے بچنا چاہتی ہو تو یہ تعویذ بازو پر باندھ لینا اور دوسرا اپنی بہن کو دے دینا ، سچی بات یہ ہے کہ ہم کچھ مرعوب بھی ہوگئے تھے اور پریشان بھی ، لہٰذا تعویذ لے لیے۔ ہمارا کام ہوگیا اور ہم چلنے لگے تو سنار صاحب نے آہستگی سے ہم سے کہا ’’بابا جی نے آپ کی بڑی مدد کی ہے ، وہ کسی سے بات نہیں کرتے، پتا نہیں آپ کو دیکھ کر انہیں کیا ہوا کہ تعویذ بھی دے دیے ، آپ بھی انہیں نیاز فاتحہ کے لیے کچھ نذرانہ دے دیں ۔‘‘
ہم نے پوچھا ’’ کیا دیں ؟ تو انہوں نے 500 روپے کا اشارہ دیا ، بہر حال ہم نے ان کی بات نہیں ٹالی ، گھر آکر جب بہن کو بتایا وہ سخت ناراض ہوئیں ، آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کی بات کو کتنی اہمیت دیتی ہیں ، اب ہمیں بھی کچھ ندامت اور پشیمانی ہوئی لیکن دل میں وہم بھی گھر کر چکا تھا لہٰذا دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے یہ خط آپ کو لکھ دیا ہے ، اب آپ ہی فرمائیں کہ ہم ان بابا صاحب کی باتوں کو کیا سمجھیں ، کیا واقعی یہ انگوٹھیاں ہمارے اور بہن کے لیے صحت کی خرابی کا سبب ہوسکتی ہیں ؟ ‘‘
جواب : آپ کا خط پڑھ کر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی بلکہ تھوڑی سی ہنسی آئی۔ اسی لیے آپ کے خط سے پہلے اتنی لمبی چوڑی تمحید کی ضرورت پیش آئی ہے ، جب آپ کا خط ملا اس سے پہلے ہی آپ کی بہن سے فون پر بات ہوگئی تھی اور ہم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ آپ کو سمجھا دیں کہ کسی وہم میں نہ پڑیں ، پہلی بات تو یہ کہ جہاں تک ہمیں یاد ہے آپ کی بیماری مرجان کی انگوٹھی پہننے سے بہت پہلے کی ہے اس کے علاج کے سلسلے میں بھی آپ ہمارے پاس آچکی ہیں لیکن اول تو آپ اول درجے کی بدپرہیز ہیں ، چاول دیکھ کر آپ کی رال ٹپکنے لگتی ہے جو اس بیماری میں زہر کی حیثیت رکھتا ہے ، پھر جم کر لمبے عرصے علاج نہیں کراتیں ، پین کلرز پر گزارا کرنے کو ترجیح دیتی ہیں ، دوسری بات یہ کہ شاید کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو کہ مرجان ہر طرح کی جسمانی صحت کے لیے ایک مفید پتھر تسلیم کیا جاتا ہے ، آخری بات یہ کہ مرجان آپ کا لکی اسٹون ہے مگر ہم جس طرح لکی اسٹون تجویز کرتے ہیں وہ رائج الوقت طریقہ کار سے مختلف ہے ، اس حوالے سے ہم ایک طویل مضمون بھی لکھ چکے ہیں اور مروجہ طریقہ کار پر تنقید بھی کرچکے ہیں ، آپ کی بہن ہمارے پاس پہلی بار اس وقت آئی تھیں جب ان کی ازدواجی زندگی خطرے میں تھی اور یہ غالباً 1995ء کی بات ہے ، آج اللہ کا کرم ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں اور گزشتہ پانچ سال سے بیرون ملک مقیم ہیں ، پتھر ہم نے انہیں اس وقت پہنایا تھا جب میاں بیوی میں لڑائی جھگڑے ہو رہے تھے اور 120 کی انگوٹھی انہوں نے اس وقت منگوائی تھی جب پہلی مرتبہ غالباً 1998ء میں ہم نے اس انگوٹھی کا تعارف اپنے کالم میں کرایا تھا ، وہ تو اس انگوٹھی کو اپنے لیے لکی انگوٹھی سمجھتی ہیں اور وہ کیا ہمارے کالم کے بے شمار قارئین اس کرشماتی انگوٹھی کے کرشمے دیکھ چکے ہیں ، آپ یہ ساری باتیں جانتی ہیں پھر آپ کا گھبرانا اور وہم میں پڑنا کیا معنی رکھتا ہے ، بہتر ہوگا کہ ذہن سے ہر وہم کو جھٹک دیں اور با با جی نے جو تعویذ دیے ہیں انہیں کھول کر دیکھیں ، ہمیں یقین ہے کہ آپ کو ان کی جہالت کا کوئی نمونہ نظر آجائے گا ، اس کے بعد انہیں پھاڑ کر پھینک دیں اور آئندہ ایسے لوگوں سے محتاط رہیں ، آپ کا خط آپ کی فرمائش پر شائع کیا گیا ہے تاکہ دیگر افراد بھی اس طرح وہم کے بیج بونے والے رنگے سیّاروں سے محتاط رہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں