اکثر لوگ عملیات و نقوش کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہوتے ہیں

واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں روحانیات اور علوم فلکیات کے حوالے سے لوگوں کی معلومات نہایت ناقص اور محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی نئی اور چونکا دینے والی بات آتی ہے تو وہ اپنی سنی سنائی معلومات کی روشنی میں اسے سمجھ نہیں پاتے اور کسی نہ کسی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ زیر نظر خط بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔آئیے پہلے آپ اس خط کو پڑھ لیں پھر اس میں اٹھائے گئے سوالات پر بات ہو گی۔
ایس، ایف لکھتی ہیں ’’مجھے آپ سے کچھ سوالات پوچھنے ہیں جن کے جواب آپ جہاں بھی چاہیں دیں مگر دیں ضرور۔ پہلی بات تو یہ ہے میں آپ کی وسیع معلومات پر بہت حیران ہوتی ہوں، خاص طور پر سیاروں کے موافق اوقات کے بارے میں آپ کا علم بہت وسیع ہے۔ ایک طرف میں آپ سے بہت امپریس ہوں تو دوسری طرف کچھ باتیں منفی بھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک خاتون نے اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لیے آپ کی مدد چاہی تھی،آپ ذرا ذہن پر زور دیں تو آپ کو یاد آ جائے گا کہ آپ نے انہیں عجیب طرح سے علم یا وظیفہ بتایا تھا کہ اپنے شوہر کی تصویر پر دل کے مقام پر سوئی لگائیں۔ معاف کیجیے گا جناب، میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، اس کے مطابق بلیک میجک بھی اسی طرح سوئی سے کیا جاتا ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس علم اور آپ کے سکھائے ہوئے علم میں کیا فرق ہے؟ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ خدانخواستہ کالا جادو وغیرہ سکھاتے ہیں مگر مجھے یہ سوئی والا طریقہ کچھ عجیب سا لگا تھا۔ آپ اسے میرا محدود علم کہہ لیں یا کچھ بھی مگر میری بات کا برا مانے بغیر جواب ضرور دیں، اس سے ذرا میری مشکل حل ہو جائے گی۔
اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ غیبی امداد سے کیا مراد ہے؟ آپ کا علم بہت وسیع ہے۔ ہر شعبے میں آپ معلومات فراہم کرتے ہیں ، یہ ایک بہت اچھی بات ہے مگر مجھے آپ سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ آپ جو کچھ سکھاتے اور سمجھاتے ہیں، وہ سب مثبت ہے؟ شادی میں رکاوٹ دور کرنا یا اولاد کی پریشانی، دولت کی ضرورت، مستقبل کے بارے میں معلومات وغیرہ۔ یہ سب ایک طرح سے پریشانی دور کرنے کے طریقے ہیں جو اب تک مثبت طریقے سے چل رہے ہیں یا یہ کہا جائے کہ آپ صرف اب تک پازیٹو وے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں مگر مان لیں کہ آپ سے اگر کوئی اس سلسلے میں مدد چاہتا ہے کہ اس کا فلاں دشمن ہے جو اس کے پیچھے پڑا ہے اور اسے نقصان پہنچا رہا ہے اور مدد چاہنے والا آپ سے کہتا ہے کہ اس شخص کو بے عزت کروا دیں یا اسے فلاح طریقے سے نقصان پہنچا دیں۔ یہ مدد ایک سائڈ سے مثبت ہو گی تو دوسری طرف سے منفی ہو گی یعنی اس میں ایک کا فائدہ ہو گا تو دوسرا کا نقصان ہوا۔ اس سلسلے میں آپ کیا طریقہ کار بتائیں گے ،ایک تو یہ ہو گا کہ آپ کے پاس اس کا کوئی حل نہ ہو گا اور آپ اسے اللہ کے کام کہہ کر اس بندے کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ دوسرے یہ کہ آپ کے پاس اس کا حل ہے مگر کیونکہ اس سے کسی کو نقصان بھی ہو گا اس لیے آپ حل نہیں بتائیں گے یا تیسرے یہ کہ آپ اسے کوئی عمل بتا دیں گے۔ اب اگر ان تین آپشن میں سے تیسرا والا صحیح ہے تو مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اس عمل میں اور جادو میں کیا فرق ہو گا؟ ایک چیز قدرت کے ذریعے، دوسری دعا کے ذریعے، جیسا کہ میں نے پڑھا ہے کہ ففٹی پرسنٹ انسان کی زندگی قسمت پر منحصر ہوتی ہے اور ففٹی پرسنٹ دعا۔ اس لیے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ اس صورت میں اس بندے کو نقصان پہنچانے کے لیے جو عمل کیا جائے گا وہ نہ قسمت میں ہو گا اور نہ دعا کے ذریعے اور تیسرا پوائنٹ جادو یا عمل کا ہی رہ جاتا ہے۔ کیا یہ جادو ہو گا؟ اور کسی کو نقصان پہنچانے والا عمل سفلی ہی ہوتا ہے یا پھر کالا جادو۔ بات وہیں پر آ جاتی ہے کہ کالے جادو میں اور اس میں جو آپ بتاتے ہیں، کیا فرق ہے؟
اب اس نقش کو لے لیں جو آپ نے کچھ عرصہ پہلے بتایا تھا۔ دیکھیں جب ڈاکٹر دوا دیتا ہے تب اسے بھی اپنی اولاد اور تجربے کا اتنا یقین نہیں ہوتا ہے اور وہ مریض کے رشتے داروں سے یہی کہتا ہے کہ دعا کریں جیسی اللہ کی مرضی۔ اگر اسے اپنے علم پر پورا یقین ہوتا تو وہ یہ بات کبھی نہ کہتا۔ باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کی دوا مرض کے لیے بالکل صحیح ہے مگر پھر بھی وہ دعا کے لیے کیوں کہتا ہے؟ جب ڈاکٹر کو پورا یقین نہیں تو آپ کو اپنے بتائے ہوئے وظائف پر کیسے اتنا یقین ہے؟ کیا آپ اس نقش کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ غیبی امداد ہو گی۔ کیا اس میں اللہ کی مرضی شامل ہونا ضروری نہیں یا یہ چیز ان باتوں سے الگ ہی کوئی تجزیہ ہے جو ہر مشکل کو آسان کرنے میں اپنے طور پر مدد کرے گا۔ میرے سوالات سے آپ میری الجھن سمجھ گئے ہوں گے۔ امید کرتی ہوں کہ برا نہیں مانیں گے اور وضاحت کر کے میری پریشانی کو دور کریں گے۔
آپ نے ایک لڑکی کے مسئلے کے حل کے لیے لکھا تھا کہ انشااللہ ایسا کرنے سے غیب سے اسباب پیدا ہوں گے۔ میں اس کا مطلب نہیں سمجھ سکی۔ عام مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کی خواہش ضروری پوری کرے گا اور مدد کرے گا مگر ’’غیب‘‘ کا مطلب میری پھر بھی سمجھ میں نہیں آ سکا۔ اس کی وضاحت کریں پلیز۔
دوسرے یہ کہ آپ کا علم محدود ہے، ایک حد تک یا لامحدود ہے؟ کوئی ایسی حد ہو گی جس کے آگے باقی قسمت کے اختیار میں ہو۔ ظاہر ہے کہ قسمت تو نہیں بدلی جا سکتی یا آپ وہ بھی بدل سکتے ہیں؟ کچھ ایسے مواقع ہوتے ہیں جو صرف اللہ اور قسمت کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ میں موت اور زندگی کے علاوہ بات کر رہی ہوں۔ کیونکہ وہ تو ہے ہی اللہ کے اختیار میں مگر ان دو باتوں کے علاوہ بھی کئی ایسے شعبے ہوں گے جن کا صاف صاف حل آپ کے پاس نہ ہو۔ وہ کون سے شعبے ہیں؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہے یعنی آپ کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے سوائے موت کے تو یہ کیسے ممکن ہے؟ میری سمجھ میں تو نہیں آ رہا ہے۔ مجھے اس سوال کا جواب بھی چاہیے کہ آپ جو حل دوسروں کو بتاتے ہیں، ان کے کامیاب ہونے کا یقین آپ کو کتنے فیصد ہوتا ہے اور کتنے فیصد آپ اللہ کی رضا پر انحصار کرتے ہیں۔ مان لیجیے کہ یہ جو نقش آپ نے بتایا ہے، اس کے کامیاب ہونے کی امید کیا آپ کو سو فیصد ہے؟ آپ جس قدر یقین سے کہہ رہے ہیں کہ اس تحفے کو قارئین کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس کا پورا یقین آپ کو کیسے ہے؟ میرے سوالات بہت زیادہ ہو گئے اور خط بھی طویل ہو گیا، آپ کے پاس خطوط کی بھرمار ہوتی ہے۔ اتنے سوالات کے جوابات آپ مجھے دے پائیں گے یا نہیں؟ مجھے معلوم نہیں مگر بہرحال جواب کی امید رکھتی ہوں۔‘‘
جواب: عزیزہ صدف! یقیناًآپ کے سوالات بہت ہیں اور ان کے جوابات بھی اگر نہایت تفصیل سے دیے جائیں تو بہت طولانی ہو سکتے ہیں لیکن ہم کوشش کریں گے کہ اختصار سے کام لیتے ہوئے آپ کی الجھن دور کر سکیں۔
آپ نے لکھا ہے آپ ہمارے کالم باقاعدگی سے اور شوق وذوق سے پڑھتی ہیں لیکن ہمیں یقین نہیں ہے۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو یہ سوالات پیدا نہ ہوتے کیونکہ ایسے تمام سوالوں کے جواب ہم دے چکے ہیں۔ ممکن ہے ہمارا کالم آپ نے ابھی کچھ عرصے پہلے سے پڑھنا شروع کیا ہو ورنہ آپ کو سحر و جادو کے حوالے سے یہ الجھن نہ ہوتی۔ ہم اس موضوع پر ایک طویل سلسلہ لکھ چکے ہیں۔
اسی طرح آپ نے ’’غیب‘‘ کے حوالے سے جو سوال اٹھایا ہے، اس موضوع پر خاصا تفصیل سے لکھا تھا۔ بہرحال اب ترتیب وار آپ کے سوالوں کی طرف آتے ہیں۔
ہمیں خوب یاد ہے کہ ہم نے شوہر کی محبت کے حصول کے لیے ایک بیوی کو جو وظیفہ بتایا تھا اس میں تصویر اور سوئی کا طریقہ لکھا تھا۔ سوئی کی وجہ سے آپ کو بلیک میجک کا شبہ ہوا۔ حالانکہ ہم نے ورد کے لیے قرآن کریم کی ایک آیت لکھی تھی تو کیا آپ کے خیال میں کلام الٰہی سے بھی بلیک میجک میں مدد لی جا سکتی ہے؟ آپ کا جواب تو یقیناً یہی ہو گا کہ نہیں مگر ہم آپ کو بتائیں کہ ہمارا جواب اثبات میں ہے۔ کچھ لوگ قرآنی اعمال کے ذریعے بھی تخریب کا راستہ اختیار کرتے ہیں، یہ الگ بحث ہے کہ پھر اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سحر یا جادو کی تعریف کیا ہے؟ اس موضوع پر اگر آپ مقدمہ ابن خلدون میں ’’باب سحر‘‘ کا مطالعہ کریں تو بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے گی۔ یہاں اس طولانی بحث کی گنجائش نہیں ہے یا پھر سحر و جادو کے موضوع پر لکھے گئے ہمارے کالم پڑھ لیں۔ مختصراً اس کی تعریف ہم لکھ رہے ہیں۔
عربی زبان میں ’’سحر‘‘ کے معنی ایسی شے کے ہوتے ہیں جس کا وجود و اسباب پوشیدہ اور نہایت دقیق ہو۔ ایک عام ذہن کیونکہ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے واقف نہیں ہوتا اس لیے جادو یا سحر اس کے نزدیک مافوق الفطرت امور ٹھہرتے ہیں حالانکہ جادو یا سحر کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انسان اپنی خفیہ صلاحیتوں کے استعمال سے واقف ہو جائے۔ دو رخوں کے قانون کے مطابق ذہنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر انسانیت کی فلاح و بہبود اور امن و سکون، محبت و خوش حالی، صحت و زندگی کے لیے بیدار کرنے اور استعمال کرنے والوں کو روحانیت کی دنیا میں ’’ولی، عامل‘‘ وغیرہ کہا جاتا ہے جبکہ انہی صلاحیتوں کو تخریب اور جاہلانہ عزائم کے لیے استعمال کرنے والوں کو ’’جادوگر‘‘ کہا گیا ہے۔ ماضی قریب میں اس کی مثال روسی ماہر روحیات راسپورٹین ہے۔
علامہ ابن خلدون نے سحر و جادو کے باب میں معجزے، کرامت اور کرشمہ کو بھی سحر میں شامل کیا ہے مگر یہ سحر و جادو کا مظاہرہ انبیاء کے ذریعے منجانب اللہ تھا اور اس کا مقصد دنیا کے بے شمار لوگوں کی بھلائی تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنا عصا زمین پر پھینکا تو اس نے حیرت انگیز طور پر ایک بڑے سانپ کا روپ دھار لیا۔ آپ کے مقابل جادوگروں نے بھی لکڑیوں اور رسیوں کو پھینکا تھا اور وہ سانپ بن گئی تھیں۔ دونوں جانب سے محیر العقول اور مافوق الفطرت مظاہرے سامنے آئے لیکن ایک جانب تخریب اور منفی طرز فکر کارفرما تھی اور دوسری جانب تعمیر اور مثبت طرز فکر۔ منفی طرز فکر میں تائید ایزدی شامل نہیں ہوتی، اس میں اللہ سے استعانت و مدد نہیں ہوتی لہٰذا اس کی قوتوں کو استدراجی یا بلیک میجک کی قوتیں کہا جاتا ہے اور مثبت طرز فکر ہمیشہ اخلاق و معاشرت اور مذہب کے بنیادی اصولوں سے وابستہ ہوتی ہے، اس کا مقصد انسان کی بھلائی اور خیر ہوتا ہے لہٰذا اسے معجزہ، کرامت یا کرشمہ کہا جاتا ہے۔
ہم نے مختصراً یہاں سفلی اور علوی اعمال کا فرق واضح کر دیا ہے۔ درحقیقت یہ موضوع بہت وسیع ہے لیکن اس سے زیادہ گفتگو کی یہاں گنجائش نہیں۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی طریقہ اور عمل جو تخریب کے لیے ہو ’’بلیک میجک‘‘ سفلی عمل کہلائے گا اور ایسا ہی طریقہ و عمل جو تعمیر اور مثبت راستوں کی طرف لے جاتا ہو، وہ علوی اور دین فطرت کے عین مطابق ہو گا۔
اب تھوڑی سی اس وظیفے کی تشریح اور تصویر و سوئی کے طریقے کی توجیح بھی کرتے چلیں کہ ایک آیت الٰہی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ طریقہ تجویز کرنے کی کیا ضرورت تھی تو ہم عملیات و وظائف کی اثر پذیری اور بے اثری کے قانون کے تحت ایک بار پھر تفصیل سے لکھ چکے ہیں، شاید آپ کی نظر سے نہیں گزرا۔ ہم نے یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اسمائے الٰہی یا آیات قرآنی کا ورد اپنے نیک مقاصد کے لیے رٹو طوطوں کی طرح کرنا، وقت برباد کرنا ہے جس طرح عبادات میں بھرپور توجہ اور خشوع و خضوع ضروری ہے، اعمال و وظائف میں بھی ضروری ہے۔ دعا میں بھی ضروری ہے اور یہ توجہ خشوع و خضوع بغیر لگن کے پیدا نہیں ہوتا۔ مصیبت کے مارے، پریشان حال لوگ ویسے ہی شدید ذہنی انتشار اور اعصاب زدگی میں مبتلا ہوتے ہیں، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ورد و وظائف شروع کرتے ہیں تو پڑھائی کے دوران میں کسی ایک نکتے پر ذہن مرتکز کر کے اپنی دعا میں بھی زور و اثر پیدا نہیں کر پاتے۔ ماہرین عملیات و روحانیات ایسی ٹیکنیک اسی لیے اختیار کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کا ذہن اپنے مقصد سے نہ بھٹکے۔ اگر ایسا ہو جائے تو تاثیر فوراً ظاہر ہو جاتی ہے۔ صدقہ و خیرات میں نیت اور ورد وظائف میں لگن کی بڑی اہمیت ہے۔ لگن ہی سے انسان کی وہ پوشیدہ قوتیں بیدار ہوتی ہیں جن کی مدد سے وہ ناممکن کو ممکن کر کے دکھا سکتا ہے۔
اس موقع پر ایک مشہور واقعہ یاد آگیا جو برمحل بھی ہے اور سبق آموز بھی۔
حجاج بن یوسف کے نام سے کون واقف نہ ہو گا۔ وہ اپنی سختی و سفاکی کے لیے مشہور ہے۔ ایک بار مکہ مکرمہ پہنچا تو دیکھا کہ خانہ کعبہ کے قریب ایک اندھا شخص بیٹھا اللہ سے اپنی آنکھوں کی بینائی مانگ رہا ہے۔ حجاج کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر اس سے پوچھا ’’تم کب سے یہاں بیٹھے دعا مانگ رہے ہو؟‘‘
اندھے نے جواب دیا شاید کئی سال کا عرصہ بتایا تو حجاج بہت برہم ہوا اور بولا۔
’’اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی تیری دعا قبول نہیں ہوئی! میں تجھے تین روز کی مہلت اور دیتا ہوں۔ تین دن میں تجھے بینائی واپس نہ ملی تو تیری گردن اڑا دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر آگے روانہ ہو گیا۔
اندھا حجاج کی سفاکی سے واقف تھا، خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور گڑگڑا کر اللہ سے آہ و زاری شروع کر دی۔ تیسرے دن حجاج واپس آیا تو اندھے کی آنکھیں روشن ہو چکی تھیں۔ اس کی دعا قبول ہو گئی تھی۔
اب آپ کا دوسرا سوال نقش کے بارے میں ہے تو عزیزہ! آپ وظیفے اور نقش کا فرق نہیں جانتیں۔ ’’اجازت‘‘ کیا ہوتی ہے اور کب اور کیوں دی جاتی ہے؟ کہاں ضروری اور کہاں غیر ضروری ہے؟ یہ بھی آپ کو نہیں معلوم۔ بلاوجہ ذہن کو الجھا لیا ہے۔ اول تو ایک بات یہ سمجھ لیں کہ اپنے جائز اور نیک مقاصد کے لیے تمام اعمال قرآنی کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عام اجازت ہے۔ اس کے لیے آپ کو کسی بھی عامل کامل یا پیر فقیر سے کسی خاص اجازت کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ نہ ہی ایسے اعمال میں عمل کے الٹنے یا پلٹنے کا کوئی خطرہ ہوتا ہے۔ بس زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ہو گا کہ اگر آپ نے عمل کی ادائیگی درست طریقے سے نہ کی تو فائدہ نہیں ہو گا لیکن کوئی نقصان بھی ہرگز نہ ہو گا۔ ہاں بے تحاشا اور اندھا دھند دنیا بھر کے اعمال و وظائف پڑھنے والوں پر اس کے نفسیاتی اثرات ضرور پڑتے ہیں یا مرض کچھ ہے اور دوا کچھ استعمال کر رہے ہیں، اس میں بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ وہ کام جو مادی طور طریقوں پر بھی ہو سکتا ہے، اس کے لیے بھی روحانی امداد لینا غلط ہے جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مادی طور پر اپنی بیماری کا علاج کرانے کے بجائے اس سے نجات کے لیے وظیفے پوچھے جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے اور یہ نقصان عموماً مرض میں زیادتی یا پیچیدگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
آپ نے ’’اجازت‘‘ کا جو لفظ سن رکھا ہے وہ ان اعمال میں ضروری خیال کیا جاتا ہے جہاں تسخیر روحانیات و جنات و ہمزاد وغیرہ کے عملیات کیے جاتے ہیں اور یہ ’’اجازت‘‘ بھی صرف وہی لوگ دے سکتے ہیں جو خود ایسے عملیات کے عامل ہوں اور عامل کا مطلب یہ ہے کہ اس نے مطلوبہ نقش یا عمل کی زکوٰۃ اکبر اس کے نصاب کے مطابق ادا کی ہو۔ اس کے علاوہ بھی دیگر عمل و نقوش کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور ان سے کام لینے کے لیے ’’اجازت‘‘ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ لیکن وہ سب اعمال زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں۔ جن میں انسان کی کچھ خاص خواہشات کارفرما ہوتی ہیں اور اندیشہ یہ بھی ہو کہ وہ جذبات کی رو میں نہ بہہ رہا ہو۔ یہ بھی ایک طولانی موضوع ہے جس پر تفصیل سے یہاں لکھنا ممکن نہیں۔ صرف آپ کی الجھن رفع کرنے کے لیے اتنا بتا دیں کہ جب عامل سے اجازت مل جائے تو پھر ’’رجعت‘‘ یعنی عمل کو الٹنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔
آپ ’’غیبی امداد‘‘ کے معنی نہیں سمجھ سکیں اور ’’غیب‘‘ کا مطلب بھی بقول آپ کے، آپ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس مسئلے پر بھی بالتفصیل لکھا جا چکا ہے۔ غیبی امداد سے مراد اللہ کی مدد ہے اور ’’غیب‘‘ درحقیقت اللہ رب العزت کی ذات اور صفات ہی ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کچھ بھی ’’غیب‘‘ نہیں ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ جو کچھ آپ کو معلوم نہ ہو، وہ آپ کے لیے غیب ہو اور جو ہمیں معلوم نہ ہو وہ ہمارے لیے غیب ہو مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ کسی دوسرے شخص کے لیے وہ غیب نہ ہو، شہود ہو۔ ہم نے اگر یہ لکھا تھا کہ ’’غیب سے اسباب پیدا ہوں گے۔‘‘ تو اس کا محاورتاً یہی مطلب تھا کہ اللہ کی طرف سے اسباب پیدا ہوں گے۔ آپ نے مرزا غالب کا وہ مصرع نہیں سنا جس میں موصوف نے ’’غیب‘‘ سے مضامین خیالی کے نزول کا تذکرہ کیا ہے۔
آپ نے جو مثال دی ہے، منفی اور مثبت کے حوالے سے کہ ایک شخص اپنے دشمن کے خلاف ہم سے مدد چاہے تو ہم کیا کریں گے، اپنے طور پر آپ نے تین طریقے سوچے اور پھر خود ہی فیصلہ بھی لکھ دیا جو احمقانہ اور مذہبی اصولوں سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اول تو ایسا مطالبہ کوئی معقول انسان کبھی نہیں کرتا کہ آپ ہمارے دشمن کو بے عزت کریں، تباہ کریں، برباد کریں۔ عموماً لوگ صرف اپنا تحفظ چاہتے ہیں جو مذہباً اور قانوناً جائز ہے۔ لہٰذا انہیں حفاظت کے خیال سے اپنے دفاع کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے اور اپنا دفاع ہر شخص کا جائزہ حق ہے، یہ تعمیری اور مثبت طرز فکر ہے۔ اگر اپنا دفاع کرتے ہوئے آپ ظالم دشمن کے مظالم سے عاجز آ کر اس کے لیے بددعا کرتے ہیں اور وہ قہر خداوندی کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے تو آپ قصور وار نہیں ہیں۔ کیا آپ کو رسول اکرم ﷺ کی ایران کے شہنشاہ خسرو پرویز کے لیے بددعا یاد نہیں، حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ جس بادشاہ نے آپ کی گرفتاری کے لیے سپاہی بھیجے تھے، وہ اپنے ایک غلام کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا مگر ایسے واقعات آخری انتہا کو جا کر ظہور پذیر ہوتے ہیں ورنہ اعلیٰ و ارفع بات یہی ہے کہ درگز سے کام لیا جائے اور صرف اپنا دفاع کیا جائے۔ باقی کالا جادو اور سفید جادو کی مروجہ اصطلاحات میں الجھنے کے بجائے اس موضوع پر اپنا مطالعہ بڑھائیں۔
عمل یا نقش کی تاثیر پر یقین اور ڈاکٹر کی دوا کی مثال بھی خوب ہے بلکہ بچگانہ ہے۔ ڈاکٹر کو اپنے علم اور تجربے کی بنا پر دوا کے اثر اور خواص پر کامل یقین ہوتا ہے مگر بحیثیت مسلمان وہ جانتا ہے کہ شفا تو منجانب اللہ ہی ہے اس لیے دعا کی تلقین کرتا ہے۔ اسی طرح اعمال و وظائف یا نقش کا معاملہ ہے۔ علم اور تجربہ ہمیں اس کے اثر و خواص پر اعتماد دلاتا ہے لیکن اس سے فائدہ منجانب اللہ ہی ہے جو ہماری نیتوں اور جائز ضرورتوں سے خوب واقف ہے۔
کسی بھی عمل یا نقش کی حیثیت ایک دعا، اللہ کے حضور ایک درخواست کی ہے۔ یہ دعا یا درخواست جتنی عمدگی کے ساتھ پیش ہو گی، اسی قدر مؤثر ہو گی۔ یہ بھی جان لیں کہ دنیا کا کوئی بھی کام مایوسی اور بے یقینی کے ساتھ کبھی انجام نہیں پا سکتا، خوش امیدی اور یقین کا ہتھیار ہر معرکے میں سرخ روئی دلاتا ہے۔
انسان کے اختیار اور بے اختیاری کے حوالے سے بھی آپ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں۔ خدا معلوم کس کتاب میں قسمت اور دعا کا احمقانہ فارمولا پڑھ لیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ انسان کو کتنا اختیار حاصل ہے اور وہ کتنا بے اختیار ہے، یہ ایک دینی مسئلہ ہے جو مسئلہ ’’جبر و قدر‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور اس پر حضرت علیؓ کی وضاحت نہایت سادہ اور لاجواب ہے۔ یہاں اس کی تشریح ممکن نہیں۔ معیاری کتب کا مطالعہ کیا کریں تاکہ گمراہ کن نظریات سے نجات ملے۔ آخری بات کا جواب یہ ہے کہ ہم جو اعمال یا نقش دیتے ہیں ہمیں ان کی تاثیر میں ایک فیصد بھی شک نہیں ہوتا اگر ہم اس پر شک کریں تو دوسرے معنوں میں اسمائے الٰہی اور آیات قرآنی کی تاثیر پر شک کریں گے جبکہ پروردگار کا ارشاد ہے کہ ہم اپنا کلام اگر پہاڑوں پر نازل کرتے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ اکثر یہ ہوا ہے کہ ہم نے کسی کو اسمائے الٰہی کا ورد بتایا یا کوئی نقش و عمل تجویز کیا لیکن اس نے کچھ عرصے بعد یہ شکایت کی کہ مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا ،کوئی اور زبردست اسم اعظم یا عمل یا نقش بتائیں۔ ایسے موقع پر ہم حیرت سے اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اس کی شکایت ہم سے ہے یا اللہ سے جس سے وہ مشکل کشائی کا طلبگار تھا۔ ہمارا کام تو ایک درست راستے کی طرف رہنمائی تھا۔
ورد و وظائف کے عام اور سادہ طریقوں اور جعفری اعمال میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر صرف اسمائے الٰہی یا آیات قرآنی کے مسلسل ورد پر مبنی ہوتے ہیں جبکہ جعفری اعمال میں اسمائے الٰہی کو آیات قرآنی کے ہمراہ دیگر اسباب موثرہ سے بھی مدد لی جاتی ہے، وہ حروف و اعداد کی خفیہ قوتیں ہوں یا علم فلکیات کے ذریعے حاصل ہونے والے سیارگان کے اعلیٰ و ادنیٰ اثرات ہوں۔ ایسے اعمال میں اسمائے الٰہی آیات قرآنی کی موجودگی شرک کے پہلو سے بچا لیتی ہے امید ہے کہ آپ اب آپ کی تسلی ہو گئی ہو گی۔ مزید کوئی الجھن باقی ہو تو ضرور لکھیے، ہمیں خوشی ہو گی کہ کوئی تو اس راستے کی تحقیق کا شوق رکھتا ہے ورنہ برسوں ہو گئے لکھتے ہوئے۔ چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں۔ کوئی علمی موضوعات پر بات ہی نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں تو فلکیاتی یا روحانی سائنس کو توہمات، خرافات تک کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے عجیب عجیب باتیں مشہور ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں