انسانی جسم میں مرض کا ظہور روح کے ذریعے 

ہومیو پیتھک طریقہ ء علاج روحانی طریقہ ء علاج ہے

اکثر و بیشتر ایسے خواتین و حضرات سے رابطہ ہوتا ہے جو طویل عرصے سے مختلف تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، بے شمار ڈاکٹروں ، حکیموں اور روحانی معالجین سے علاج کراچکے ہوتے ہیں اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں ، ان کی بیماری کا علاج ممکن نہیں ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیماری کسی جادوئی اثر یا آسیبی ، جناتی اثر کا نتیجہ ہے چناں چہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے بارے میں انھیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت پہنچے ہوئے اور زبردست روحانی قوتوں کے حامل ہیں، بے شمار ایسے لوگوں کے ہاتھوں لٹنے اور علاج میں ناکامی کے باوجود بھی ان کی یہ تلاش جاری رہتی ہے،بھٹکتے بھٹکاتے ہماری طرف بھی آ نکلتے ہیں اور اگر ہم انھیں یہ بتانے کی کوشش کریں کہ آپ کی بیماری وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں تو وہ یقین نہیں کرتے، اپنی بات پر قائم رہتے ہیں، ایسے بے شمار مریضوں سے گزشتہ تقریباً 30 سال میں ہمارا واسطہ پڑتا رہا ہے،چند روز پیشتر ہمیں طویل خط موصول ہوا، خط لکھنے والے ہمارے پرانے قاری ہیں،بہت طویل عرصے سے ہمارے کالم پڑھتے رہے ہیں اور خاص طور پر ایسے کالم جو ہم نے علاج معالجے یا مختلف پیچیدہ امراض کے حوالے سے لکھے ہیں کیوں کہ ہم یہ بھی کئی بار لکھ چکے ہیں کہ جسمانی اور روحانی بیماریوں کا شافی علاج ہمارے نزدیک ہومیو پیتھک دواؤں سے ممکن ہے اور ہم ہومیو پیتھی کو روحانی طریقہ ء علاج سمجھتے ہیں لہٰذا خط میں ہم سے یہی سوال کیا گیا ہے کہ آپ کن بنیادوں پر یہ دعویٰ کرتے ہیں ، کسی بھی دوا کا روح سے کیا تعلق ہے؟خط بہت طویل ہے جو یہاں مکمل طور پر شائع نہیں کیا جاسکتا لیکن خط کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔

ہومیو دوا کی روحی حیثیت

ہومیو پیتھک دوا کو عام طور پر اس کی خالص حیثیت میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی پوٹینسیاں تیار کی جاتی ہیں یعنی ایک قطرہ دوا اور 99 قطرے الکوحل ملاکر سو جھٹکے دیے جاتے ہیں تو ایک پوٹینسی بنتی ہے پھر اس میں سے ایک قطرہ لے کر مزید ننانوے قطرے الکوحل کے ملائے جاتے ہیں اور پھر سو جھٹکے دیے جاتے ہیں تو اس طرح دوسری پوٹینسی تیار ہوتی ہے یہی طریقہ مستقل دہرایا جاتا ہے اور پوٹینسی کو 30 ، 200 ، 1000 یا ایک لاکھ تک بڑھایا جاتا ہے، اس صورت میں دوا کا پہلا قطرہ جو الکوحل میں شامل کیا گیا ہوتا ہے ، 200 یا 1000 کی پوٹینسی تک پہنچتے پہنچتے درحقیقت اپنا وجود کھودیتا ہے،اگر کسی لیبارٹری سے دو سو کی پوٹینسی کا تجزیہ کرایا جائے تو اصل دوا کا وجود ثابت نہیں ہوسکے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ الکوحل میں اصل دوا کی صرف روح موجود رہتی ہے،چناں چہ ہومیو پیتھک دوا کو ایک روحی حیثیت دی جاسکتی ہے۔
ہمارے مروجہ طریقہ ہائے علاج میں امراض کی روحی حیثیت پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی ، صرف ظاہری جسمانی تکالیف کے علاج پر ہی زور دیا جاتا ہے جب کہ روحیات اور بعض دیگر طریقہ علاج سے وابستہ ماہرین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مرض کی ابتدا درحقیقت روح پر وارد ہونے والی مختلف ناگوار اور ضرور رساں کیفیات سے ہوتی ہے، پیراسائیکالوجی کے ماہرین(قدیم ہوں یا جدید) اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم میں مرض کا ظہور اس کی روح کے ذریعے ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی علاج پر زور دیتے ہیں اور ایسے طریقے تجویز کرتے ہیں جو روح پر اثر انداز ہوں۔
روح کے ذکر سے یہاں یہ بحث چھڑ سکتی ہے کہ روح سے کیا مراد ہے یا یہ کہ روح کیا ہے؟ اس کا انسانی جسم سے کیا تعلق ہے؟
اس موضوع پر اہل تصوف و مذہب کے نظریات اور تشریحات موجود ہیں، ہم بھی بہت پہلے اسی کالم کے ذریعے اس موضوع پر لکھ چکے ہیں اور انسانی روح کی اقسام پر بھی اظہار خیال کرچکے ہیں جس میں نسمہ، جسم مثالی، پیکر نور یا ہمزاد (Aura) کے حوالے سے خاصی تفصیلی بحث ہوچکی ہے اور روحیات یا روحانیات سے تعلق رکھنے والا مکتبہ ء فکر( وہ جدید پیراسائیکولوجی سے تعلق رکھنے والے اہل مغرب ہوں یا مشرق کے اہل تصوف) اسی جسم مثالی میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے پر زور دیتا ہے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ ہر مرض کی ابتدا اس جسم مثالی یا پیکر نور سے ہوتی ہے، بعد میں اس کا ظہور مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں کی شکل میں انسانی جسم میں ہوتا ہے لہٰذا اگر بنیادی خرابی کو درست کردیا جائے تو جسم میں ظاہر ہونے والے خطرناک سے خطرناک مرض کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
کلر تھراپی (رنگ و روشنی سے علاج) کے ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ انسانی جسم کے ارد گرد (موجود ہالہ ء نور (Aura) رنگوں اور روشنی کی مخصوص مقدار ور ترتیب رکھتا ہے، اس مقدار میں کمی بیشی اور ترتیب میں بگاڑ ذہنی جسمانی امراض کے ظہور کا سبب بنتا ہے لہٰذا مقدار کی کمی بیشی اور ترتیب کے بگاڑ کو وہ رنگ و روشنی سے علاج کے ذریعے درست کرنے پر زور دیتے ہیں۔
ہپناٹزم کے حوالے سے بھی ہم پہلے سیلف ہپناٹزم کی ایک مشق پر گفتگو کرتے ہوئے لکھ چکے ہیں کہ اس طریقے پرعمل کرکے انسان اپنے جسم میں موجود خفیہ دفاعی سسٹم کو متحرک اور فعال بناتا ہے، وہ خفیہ دفاعی سسٹم روحیات کے ماہرین کے نزدیک انسان کا جسم مثالی بھی ہوسکتا ہے،اس موضوع پر تفصیلی معلومات کے لیے ہماری کتاب ’’مظاہر نفس‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
ہومیو پیتھی کو علاج بالمثل کہا جاتا ہے یعنی ایسا علاج جو جسم میں خرابیاں اور فساد پیدا کرنے والے اندرونی اور بیرونی عوامل ہی کے ذریعے کیا جائے مثلاً اگر کوئی شخص کسی زہر کے استعمال سے کسی موذی مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسی زہر کی نہایت قلیل مقدار ایک خاص طریقے سے اس کے جسم میں داخل کرکے اس مرض کا علاج کیا جاتا ہے، یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ایلو پیتھک طریقہ ء علاج میں مختلف بیماریوں کے ٹیکے وغیرہ لگاکر ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تدابیر کی جاتی ہیں مثلاً پولیو کے ٹیکے کے ذریعے جو دوا جسم میں داخل کی جاتی ہیں وہ انسانی جسم کے اس دفاعی سسٹم کو بیدار کردیتی ہے جو پولیو کے جراثیم کا مقابلہ کرسکتا ہے، ہومیو پیتھک طریقہء علاج کی بنیاد تقریباً یہی نظریہ ہے اور اس کی ایجاد کا سبب بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا،
ہومیو پیتھک کے بانی ہنی مین کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جس دوا کو کھانے سے کوئی مرض دور ہوسکتا ہے، کیا اسی دوا کے بہت زیادہ استعمال سے وہ مرض پید ابھی ہوسکتا ہے، چناں چہ اس نے اس نظریے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اوپر تجربات کیے اور نتیجتاً حقیقت کو پالیا کہ وہ تمام جسمانی اور ذہنی بیماریاں جو انسان کو اذیت اور تکلیف میں مبتلا کرتی ہیں ان کے بیرونی اور اندرونی عوامل کا سراغ لگاکر ان ہی عوامل کی نہایت قلیل اور انتہائی لطیف مقدار انسانی جسم میں داخل کی جائے تو اس بیماری کے خلاف انسان کا مخصوص دفاعی سسٹم حرکت میں آجاتا ہے اور حملہ آور بیماری کو شکست سے دو چار کردیتا ہے۔
اب تک کی مثالوں میں مختلف نظریات کی نشان دہی کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ مختلف طریقہ ہائے علاج کی اکثریت کا زور روحی یا روحانی خرابیوں اور ان کے علاج پر ہے ، ہومیو پیتھی میں بھی پرانے اور گہرے امراض کے حوالے سے انسان کے اندر موجود تین خفیہ قوتوں کی کارفرمائی پر نظر رکھی جاتی ہے اور انھیں انسانی جسم میں پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کی جڑ تصور کیا جاتا ہے ، یہ تین خفیہ قوتیں اپنے اصطلاحی ناموں میں ’’سورا‘‘ ’’سفلس‘‘ اور ’’سائیکوسس‘‘ ہر انسان میں پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہیں ، ان کی کمی یا بیشی مختلف بیماریوں میں شدید نوعیت کی پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، عام ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کی دلچسپی کے لیے ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ موجودہ دور میں جدید ہومیو پیتھک تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ خفیہ قوتیں جنھیں اصطلاحاً ’’میازم‘‘کہا جاتا ہے تین نہیں، چار ہیں، انڈین ہومیو پیتھک ماہرین نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ چوتھا ’’میازم‘‘ ٹیوبر کولیسز ہے، اس انکشاف کے بعد ہومیو پیتھی کی بنیادی فلاسفی میں خاصا بڑا انقلاب آیا ہے، بہر حال ہم یہاں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کیوں کہ یہ ہمارے عام قاری کا مسئلہ بھی نہیں ہے، ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کیا مندرجہ بالا ہومیو پیتھک نظریات ان نظریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں جو مرض اور مریض اور دوا کے روحانی یا روحی تعلق سے منسوب ہے؟
جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ بڑا طولانی اور تفصیل طلب موضوع ہے، ہم نے چند نکات کی نشان دہی کردی ہے، اہل علم حضرات اس پر غورو فکر کرسکتے ہیں اور ہماری طرف سے انھیں اظہار خیال کی بھی دعوت ہے، بہر حال ہم اپنی ذاتی حیثیت میں اس نظریے کے قائل ہیں کہ مرض کے بجائے مریض کا علاج کیا جائے اور مریض سے مراد صرف گوشت و پوست، ہڈیوں اور دیگر رطوبات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ انسان کی روحی اور روحانی حیثیت ہے، جب تک اس کی روح بیمار اور مجروح ہے، وہ جسمانی طور پر تندرست نہیں ہوسکتا، اب اس کے علاج کے لیے طریقہ علاج خواہ کوئی بھی اختیار کیا جائے، ہمیں اس سے غرض نہیں، ہاں یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ جو طریقہ اختیار کیا جارہا ہے وہ مطلوبہ مقاصد پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں ہمیں ایلو پیتھک طریقہ علاج میں کچھ نہیں ملتا کیوں کہ اس کی بنیادی فلاسفی صرف انسانی جسم تک محدود ہے، روح کے حوالے سے وہاں کوئی بات نہیں ہوتی، نہ ہی روحی مسائل کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے بلکہ انھیں واہمہ قرار دے کر نظر انداز کردیا جاتا ہے، البتہ ہومیو پیتھی ایسی کسی بات کو نظر انداز نہیں کرتی، وہ انسانی خوابوں، واہموں اور دیگر تمام احساسات، جذبات اور خواہشات تک کو مرض کی تشخیص میں مدنظر رکھتی ہے، ہومیو پیتھی کا ایک اچھا طالب علم اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرے گا کہ مریض خواب میں سانپ، چھپکلیاں، کتے، بلیاں یا دیگر حشرات الارض اور جانوروں کو اکثر دیکھتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ان علامات کے لیے ہومیو پیتھی میں دوائیں موجود ہیں۔
ایک خاتون بہت سی بیماریوں میں مبتلا تھیں، بہت سے ڈاکٹروں، حکیموں اور پیروں فقیروں سے علاج کراچکی تھیں اور اس اسٹیج پر پہنچ گئی تھیں جہاں انھیں اور ان کے گھر والوں کو یہ یقین ہوچکا تھا کہ معاملہ کسی عام بیماری کا نہیں بلکہ کوئی اوپری اثر ہے، کوئی جن بھوت ان پر مسلط ہوچکا ہے جو ان کو صحت مند نہیں ہونے دیتا، طویل بیماری نے انھیں بے حد حساس بھی بنادیا تھا اور یہ حساسیت بہت سے واہموں کو بھی جنم دیتی رہتی تھی، وہ اکثر غیر معمولی قسم کے خواب بھی دیکھتی تھیں اور تنہائی میں کچھ اجنبی آوازیں یا آہٹیں بھی انھیں سنائی دیتی تھیں، ایسے مریض طویل عرصہ تک مختلف ڈاکٹروں اور روحانی معالجوں سے واسطہ رہنے کے سبب خود بھی آدھے ڈاکٹر ہوچکے ہوتے ہیں اور عموماً کسی نئے معالج کے پاس جاتے ہیں تو اس کو اپنی مرض کے علاج پر راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی اپنے مرض کی تشخیص خود ہی کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ اسی مرض کا علاج کیا جائے جو ان کے خیال میں انھیں لاحق ہے یا صرف اس تکلیف پر توجہ دی جائے جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر پریشان ہیں، ایسی صورت میں وہ بعض اہم علامات کا اظہار ہی نہیں کرتے اور عام ڈاکٹروں کو بھی اتنی فرصت کہاں کہ وہ مریض سے طویل گفتگو کرکے اصل خرابی کی وجہ معلوم کرے۔
یہ خاتون جب ہمارے زیر علاج آئیں تو تقریباً تین ماہ تک انھوں نے ہمیں خاصا پریشان کیا، معاملہ کسی صورت قابو میں نہیں آرہا تھا، اتفاق سے ایک روز ہم نے ان سے آسیب و جن کے حوالے سے گفتگو شروع کردی اور اس کے نتیجے میں ایک موقع پر ان کے منہ سے ایک ایسی بات نکل گئی جو اب تک انھوں نے ہمیں نہیں بتائی تھی کہ رات کو روز ٹھیک تین بجے ان کی آنکھ کھلتی ہے، وہ گھڑی پر نظر التی ہیں تو پورے تین ہی بجے ہوتے ہیں، ایک منٹ کم نہ زیادہ، بس اس کے بعد ان کی طبیعت مزید بگڑ جاتی ہے، ان کا اپنا خیال یہی تھا کہ ان پر مسلط جن یا آسیب رات ٹھیک تین بجے ان کے پاس آتا تھا، انھیں جگاتا تھا اور پھر تنگ کرتا تھا۔
ہومیو پیتھک ڈاکٹر خوب جانتے ہیں کہ یہ کس دوا کی علامت ہے، چناں چہ ہم نے کسی تاخیر کے بغیر انھیں مشہور ہومیو پیتھک دوا کالی کارب استعمال کرادی اور پھر اس کے حیرت انگیز مفید نتائج بھی دیکھے، خاتون کو یقین آگیا کہ وہ جن ان کا پیچھا چھوڑ گیا ہے، ایسے بے شمار واقعات ہومیو ڈاکٹروں کے تجربات میں محفوظ ہوں گے اور پریکٹس کرنے والوں کو پیش آتے رہتے ہیں، ہمارا کالم پڑھنے والے اگر تجربات بیان کرنا چاہیں تو ہمیں خوشی ہوگی اور انھیں لوگوں کے فائدے کے لیے اس کالم میں بھی شائع کیا جاسکتا ہے۔

Back to Conversion Tool

اپنا تبصرہ بھیجیں