Jafar Aasar

نورانی لوحِ شرفِ زحل کا طریقہء کار

شرفِ زحل کی آمد کا چرچا پاکستان ہی میں نہیں بیرونِ ملک بھی کم نہیں ہے، عام لوگ نہ زحل کے بارے میں جانتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ معلوم کہ شرف کیا ہوتا ہے، ہمارے عاملین اور علمِ جفر کے ماہرین جب انہیں یہ بتاتے ہیں کہ شرفِ زحل ایک نہایت مبارک اور سعادت بخش وقت ہے اور اس وقت میں لوحِ زحل تیار کرنی یا تیار کرانی چاہیے تاکہ زندگی کے مسائل و مشکلات سے نجات مل سکے تو عام آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ لوح کیا ہوتی ہے اور یہ کیسے بنائی جاتی ہے ؟اس سے فائدہ کس طرح ممکن ہے؟وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں گزشتہ ایک ماہ سے ایسے بہت سے سوالات موصول ہورہے ہیں جن میں لوگ بعض اوقات عجیب عجیب باتیں پوچھتے ہیں ، نام نہاد عاملوں یا جعلی ماہرینِ جفر و نجوم کی پھیلائی ہوئی باتوں کے حوالے سے بھی استفسار ہوتا ہے، آج کی نشست میں ایسے ہی سوالات کے جوابات دیے جارہے ہیں جو یقیناً عام لوگوں کی رہنمائی کا باعث بھی ہوں گے، اگر آپ کے ذہن میں بھی کوئی نیا سوال موجود ہے تو آپ ہم سے دریافت کرسکتے ہیں۔
لوگ لوح کا مطلب پوچھتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم کسی اہم عبارت ، اعداد یا مخصوص شکل کو کسی کاغذ ، کھال ، دھات یا پتھر پر تحریر کرکے محفوظ کرتے ہیں تو اُسے اصطلاحاً لوح کہا جاتا ہے، جیسا کہ مسلمانوں میں ’’لوحِ محفوظ‘‘ کی اصطلاح موجود ہے یعنی کوئی ایسی تختی جس پر اللہ رب العزت نے سب کچھ لکھ کر محفوظ کیا ہوا ہے۔
علمِ جفر حصہ آثار کے عملیات میں مخصوص نقش یا اشکال کسی مخصوص ستارے کے خاص اوقات میں تیار کرکے اس کا اثر محفوظ کرلیا جاتا ہے تاکہ اُس سے فائدہ اُٹھایا جاسکے،اس طرح اگر کوئی مخصوص نقش یا شکل کسی کاغذ ، کھال ، دھات یا پتھر پر تیار کرتے ہیں تو اُسے اُس ستارے کی لوح کہا جاتا ہے، مسلمان ماہرینِ روحانیات نے سیارگان کی سعد قوتوں اور اثرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے مخصوص آیاتِ قرآنی اور اسمائے الٰہی کے اعداد سے نقش و طلاسم ترتیب دے کر انہیں سیارگان کے خاص اوقات میں کسی مناسب و موزوں دھات یا پتھر پر ثبت کرنے کے طریقے تعلیم کیے ہیں اور صدیوں سے لوگ اس سے فیض حاصل کر رہے ہیں، ماضی میں یہ علوم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے، ان علوم و فنون کے استادانِ وقت ہر شخص پر یہ راز ظاہر نہیں کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ علوم بھی عام ہوتے چلے گئے مگر افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اہل اور نا اہل کی تمیز نہیں رہی ، ہر شخص مخصوص بزرگانہ حُلیہ بناکر دو چار کتابیں پڑھ کر خود کو ماہرِ نجوم و جفر اور کوئی روحانی شخصیت ظاہر کرکے خلقِ خدا کو بے وقوف بنانے کا کاروبار شروع کر بیٹھتا ہے اور پھر ایسی ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا علم سے اور اس فن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ محض اپنا کاروبار چمکانے کی گمراہ کن کوشش ہوتی ہے ، چوں کہ عام لوگ علمی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتے ، وہ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں،اچھی بات یہ ہے کہ ملک میں بہر حال اب علم عام ہورہا ہے، انٹرنیٹ کی سہولت نے ساری دنیا کو آپ کے گھر کی ایک ٹیبل پر رکھ دیا ہے،ملک کے اخبارات و رسائل بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،اگر جعلی اور دھوکے باز ، لوگوں کو اپنے پُرفریب اشتہارات سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو درست رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
الحمداللہ! ہم نے ہمیشہ علمی باریکیوں کی وضاحت کرکے اپنے قارئین کو درست رہنمائی فراہم کی ہے،ہمارے گزشتہ 15 سالوں میں لکھے گئے مضامین اور کتب ہمارے اس دعوے کا ثبوت ہیں ، لوگ جن باتوں کو سینے کا راز سمجھتے رہے، ہم نے انہیں عام کیا، سیارگان کی الواح و نقوش یا طلاسم پوری صحت و درستگی کے ساتھ پیش کیے اور ان کی تیاری کے درست اوقات کی نشان دہی کی، ساتھ ہی تیاری کے طریقہء کار کی بھی وضاحت تفصیل کے ساتھ پیش کردی تاکہ عام آدمی اگر چاہے تو خود بھی تیار کرکے فائدہ حاصل کرے، ہمیشہ سے ہمارا یہی طریقہء کار رہا ہے، شرفِ زحل کے موقع پر بھی لوحِ زحل کی مختلف اقسام پیش کردی گئی تھیں جو اب بھی ہماری ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے اور اس کی تیاری کا طریقہ بھی لکھ دیا گیا تھا تاکہ اپنی ذاتی ضرورت کے لیے ہر شخص یہ لوح خود تیار کرسکے۔
بعض لوگ اپنے کاروباری مقاصد کی وجہ سے اس قسم کی باتیں بھی پھیلاتے رہتے ہیں کہ لوح صرف کوئی عامل ہی تیار کرسکتا ہے جس نے اس کی زکوۃ ادا کی ہو،اگرچہ یہ بات درست ہے ، روحانی اعمال کے لیے صاحبِ زکوٰۃ ہونا ضروری ہے مگر صرف ان لوگوں کے لیے جو دوسروں کے لیے کام کر رہے ہوں یعنی لوح یا نقش کسی دوسرے کے لیے بنارہے ہوں ، اپنی ذاتی ضرورت کے لیے ہر شخص صاحبِ عمل کی اجازت سے ایک لوح یا نقش خود تیار کرسکتا ہے، اس کا عامل ہونا ضروری نہیں ہے، ہم جو اعمال بھی اپنے قارئین کے لیے لکھتے ہیں اُن کی ہمارے قارئین کو عام اجازت ہوتی ہے اور خیال رہے کہ اجازت وہی دے سکتا ہے جس نے نصاب کے مطابق زکٰوۃِ اکبر ادا کی ہو، الحمدہ اللہ کہ اللہ نے ہمیں یہ توفیق دی لہٰذا ہر شخص اصول و قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ہمارے دیے ہوئے اعمال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔
شرفِ زحل کے حوالے سے ہم نے لوحِ طبعی اور لوحِ وضعی متعارف کرائی تھیں جو سیارہ زحل کی اصل اور بنیادی الواح ہیں اور تیاری کا طریقہ بھی لکھا ، سعد اوقات کی نشان دہی بھی کی اور آئندہ بھی مزید اوقات کے سلسلے میں رہنمائی جاری رہے گی لیکن اکثر قارئین نے دونوں الواح کے سلسلے میں یہ شکایت کی کہ آپ نے اپنی روایات کے خلاف شرفِ زحل کے موقع پر بہت مشکل الواح دی ہیں جب کہ یہ آپ کی روایت نہیں ہے ، اول تو 81 خانے اور پھر نقش کی مشکل چال لہٰذا ہمارے لیے اسے تیار کرنا کافی مشکل ہورہا ہے، آپ شرفِ زحل کے حوالے سے آسان اعمال بھی لکھیں۔

ہمارے قارئین کی یہ شکایت بجا ہے ، بے شک یہ دونوں الواح تیار کرنا خاصا مشکل کام ہے،اس میں ماہرانہ تجربے کی ضرورت ہے ، بعض لوگوں نے ہم سے رجوع کیا اور ہم نے ان کی مدد بھی کی لیکن پھر بھی قارئین کا ایک بڑا حلقہ جو خود اس کی تیاری میں دلچسپی رکھتا ہے اور 30 سال بعد حاصل ہونے والے اس سعد و مبارک وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہتا، اُن کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ ’’نورانی لوحِ شرف زحل‘‘تیار کریں جس میں انہیں زیادہ دشواری نہیں ہوگی کیوں کہ اس کے نقوش زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں اور تاثیر کے اعتبار سے بھی یہ طلسمی اثر رکھتی ہے ، اس بار ہم اس کا طریقہ کار وضاحت کے ساتھ دے رہے ہیں اور لوح کے دونوں حصے بھی شائع کر رہے ہیں۔
عزیزان من! یہ دونوں نقش نہایت سادہ اور آسان ہیں، ایک نورانی لوحِ شرفِ زحل اور دوسرا نورانی طلسمِ شرفِ زحل ہے، دونوں کو سیسے کی گول تختی پر آگے پیچھے کندہ کیا جاسکتا ہے، سیسہ بہت نرم دھات ہے جس پر کسی بھی نوک دار چیز سے لکھنا مشکل نہیں ہوتا، چوں کہ یہ نورانی لوح ہے لہٰذا اسے پہلے سے سانچہ یا ڈائی بناکر مقررہ وقت پربھی ڈھالا جاسکتا ہے،قدیم زمانوں میں ایسی الواح کی تیاری کے لیے یہی طریقہ رائج تھا مگر اپنی ذاتی ضرورت کے لیے آپ کو ڈائی یا کوئی سانچہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی، وقتِ مقررہ سے پہلے گول دائرہ اور لوح کے ڈیزائن کی مارکنگ کرلیں اور پھر پر ہفتے کے روز صبح سورج نکلنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اس پر صرف ہاتھ پھیرنا کافی ہوگا مگر خیال رہے کہ مارکنگ کرتے ہوئے بھی یہ خیال رکھیں کہ ہفتے کے روز ساعتِ زحل میں ہی مارکنگ کا کام بھی کریں، ہفتے کو دوسری ساعت زحل دوپہر کوتقریباً 01:20PM سے 02:20PM تک ہوتی ہے ، اس سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں مزید جن باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہیں کہ آپ ساعتِ زحل شروع ہونے سے پہلے باوضو ہوکر ایک علیحدہ کمرے میں تمام ضروری سامان کے ساتھ بیٹھ جائیں ، کچھ مٹھائی فاتحہ کے لیے ساتھ رکھیں عمدہ اور تیز خوشبو لباس میں لگائیں، زحل کی خوشبو عطرِ گِل ہے جسے لوگ عطرِ گُل سمجھتے ہیں ، گُل کے معنی پھول کے ہیں جب کہ گِل مٹی کو کہتے ہیں، عطرِ گِل تجہیز و تکفین کے وقت استعمال ہوتا ہے لہٰذا وہیں سے ملے گا، دوسرا عطر خس ہے، یہ عام ملتا ہے اور موسمِ گرما کا عطر کہلاتا ہے، ان دونوں کے علاوہ بھی کوئی تیز خوشبو استعمال کی جاسکتی ہے، اگر زحل کے متعلقہ بخورات میعہ سائلہ ، کالا دانہ، کالی مرچ ، قرنفل وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی نہ مل سکے اور بخور جلانا آپ کے لیے ممکن نہ ہو تو لوبان یا صندل کی اگر بتی جلا کر کمرے کو معطر کرلیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ نے جس سمت اپنا رُخ رکھا ہے وہ آپ کے سامنے تو نہیں آرہے، اس کے بعد 7 مرتبہ یا حافظُ یا حفیظُ یا رقیبُ یا قریبُ پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر دم کریں اور بسم اللہ پڑھ کر لوح تیار کرلیں بعد ازاں 99 مرتبہ دونوں آیات پڑھ کر نقش پر دم کردیں، مٹھائی پر فاتحہ دے کر اپنے کیے ہوئے کام میں تاثیر کے لیے اللہ سے دُعا کریں، لوح کو محفوظ کرلیں اور کسی بھی نوچندے ہفتے کو صبح سورج نکلنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر پہن لیں یعنی اپنے پاس رکھیں حسبِ توفیق صدقہ خیرات کریں، بہترین بات یہ ہوگی کہ 8 غریبوں کو کھانا کھلادیں یا کسی معذور اور سخت بیماری میں مبتلا انسان کی حسبِ توفیق مالی مدد کریں۔
خیال رہے کہ مندرجہ بالا دونوں نقوش طلسمی اثر رکھتے ہیں انہیں پاس رکھنے والا انشاء اللہ کبھی زحل کی نحوست کا شکار نہیں ہوگا، اُس پر کبھی کوئی غالب نہیں آسکتا، وہی غالب رہے گا، کسی قسم کی بندش اور رکاوٹ اس کا راستہ نہیں روک سکتی، طلسمِ زحل تسخیر خلق اور جذب القلوب کی تاثیر بھی رکھتا ہے، اس کا حامل اگر کسی کے پاس اپنی حاجت لے کر جائے گا تو وہ انکار نہیں کرسکے گا،لوح زحل نورانی قبضہ و استحکام اور پائیداری کے لیے بھی مفید ہے اور زمین و جائیداد کے حصول میں بھی مدد گار ثابت ہوگی ،وہ لوگ جو برسوں سے اپنی ذاتی رہائش کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور ناکام ہیں اس لوح کے حیرت انگیز فوائد محسوس کریں گے ، پراپرٹی کا کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ لوح عروج و ترقی کا باعث ہوگی۔
اصل طلسم زحل کے ساتھ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 163 ہے جو تسخیرِ خلق اور جذب القلوب کے لیے یا مقدمات میں کامیابی اور دشمن سے تحفظ کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے ، ساتھ ہی وہ قولِ ربانی ہے جس سے غلبہ ء عالم اور جاہ و حشم عیاں ہے۔ دائیں بائیں حروفِ نورانی ہیں جو سیارہ زحل سے منسوب ہیں یعنی اآآ اور طٰسٓ، زحل کی مہر ، مؤکل اور طلسم کے علاوہ اس لوح میں ثابت کوکب اسپیکا کا طلسم بھی موجود ہے، خیال رہے کہ اسپیکا کاروبار میں ترقی اور دولت کے حصول کے لیے مشہور ہے، مغرب میں اسپیکا کے طلسم کو خاص وقت میں کندہ کرکے کاروبار کی جگہ پر رکھا جاتا ہے،زحل حالتِ شرف میں اسپیکا سے قران کی حالت میں ہوگا لہٰذا اسپیکا کی تاثیرات لوح میں شامل کرنے کا یہ بہترین موقع ہوگا۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ زحل کی دھات سیسہ ہے اور پتھر ، سیاہ عقیق یا سنگِ حدید ہے لہٰذا ’’لوحِ نورانی‘‘ کو ان پر کندہ کرنا افضل ہے ، اگر کسی انتہائی مجبوری کے تحت یہ ممکن نہ ہوسکے تو پھر عمدہ قسم کا سیاہ یا نیلا کاغذ لیں اور اُس پر نیلی یا کالی روشنائی سے دونوں نقوش اس طرح لکھیں کہ تہہ کرنے بعد دونوں ایک دوسرے پر چسپاں ہوجائیں ، اس کے بعد تہہ کرکے تعویذ بنالیں اور چمڑے میں بند کراکے بازو پر باندھیں یا گلے میں پہن لیں ، انشاء اللہ یہ تعویذ بھی اپنا اثر دکھائے گا، مسئلہ صرف اتنا ہے کہ تیس سال بعد حاصل ہونے والے اس وقت پر جو لوح تیارکی جائے گی وہ زندگی بھر کام آئے گی اور کاغذ پر اس کی پائیداری مشکوک رہے گی، وہ کبھی بھی خراب ہوسکتی ہے اور اس کا اثر ختم ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں