انتظار کیجئے!

ڈاکٹر بوننگ لگاسن

ڈاکٹر بوننگ لگاسن 12 مارچ1785 میں نیدرلینڈ کے ایک صوبے میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے جسمانی ورزش کرتے تھے اور تیراکی اور شکار کھیلنا ان کا مشغلہ تھا۔ اس لیے یہ جسمانی طور پر بہت صحت مند تھے لیکن تعلیمی اعتبار سے اتنے مستعد نہیں تھے۔ 12 سال کی عمر میں انھوں نے Munster کے ہائی اسکول سے تعلیم کا آغاز کیا۔ چھ سال اس اسکول میں پڑھنے کے بعد 18 سال کی عمر میں Dutch University میں قانون، نیچرل ہسٹری اور میڈیسن کا مطالعہ کیا۔ 30 اگست 1806 میں انھوں نے ڈچ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی اور اسی سال اکتوبر میں وہ سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن نے 1812 میں شادی کرلی اور West phalia منتقل ہوگئے، جہاں انھوں نے ایگریکلچر میں کام کرنا شروع کردیا اور اس سلسلے میں جرمنی کے ماہرین سے خط و کتابت شروع کردی اور ایگریکلچر پر کئی مشہور آرٹیکل لکھے۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن کو ہومیوپیتھی کا رجحان کیسے ہوا؟
1827 میں ڈاکٹر بوننگ لگاسن سخت بیمار ہوگئے۔ تشخیصی مراحل سے گزرنے کے بعد پتا چلا کہ ان کو ٹی بی ہوگئی ہے۔ 1828 میں ان کے مرض نے شدید صورت اختیار کرلی اور جب صحت یابی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو بوننگ لگاسن نے اپنے ایک دوست Dr.A.Weihe. M.Dکو الوداعی خط لکھا۔
Dr.A.Weihe پورے صوبے میں پہلا ہومیوپیتھک فزیشن تھا۔ اس ڈاکٹر نے بوننگ لگاسن کی تفصیلی علامات لینے کے بعد ان کے لیے پلسل ٹیلا تجویز کی اور تسلی دی کہ وہ آہستہ آہستہ صحت مند ہوجائیں گے۔ چناں چہ موسم بہار میں ان کا علاج شروع ہوا اور موسم گرما تک وہ بالکل صحت یاب ہوگئے، یہ وہ موڑ تھا جہاں سے بوننگ لگاسن کا رخ ہومیوپیتھی کی طرف ہوا۔ چنانچہ انھوں نے ڈچ سول سروس سے استعفیٰ دے دیا اور کشادہ دلی سے ہومیوپیتھی کی پریکٹس کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن کا مرتب کیا ہوا پاؤڈر بہت مشہور ہوا۔ یہ پاؤڈر سینے کے انفیکشن اور ۔۔۔۔۔۔کے لیے بہت مفید تھا۔ ابتدا میں یہ پاؤڈر ہومیوپیتھک اسٹورز پر باآسانی مل جاتا، ڈاکٹرصاحب اپنے مریضوں کے ساتھ بہت مخلص تھے۔ اس پاؤڈر کو انھوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا اور اس ترتیب سے انھوں نے دواؤں کے نام بھی تحریر کرائے تھے جو اس پاؤڈر میں شامل کی تھیں۔ (1)۔ ایکونائٹ۔ (2)۔ہیپرسلف۔ (3)۔ اسپونجیا۔
وہ پہلے راؤنڈ میں اس ترتیب سے مریضوں کو دوا استعمال کراتے اور دوسرے راؤنڈ میں وہ صرف پیپر سلف اور اسپونجیا استعمال کرواتے تھے۔ ہومیوپیتھک معالجین ڈاکٹر بوننگ لگاسن کے اس نسخے سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن کے سات لڑکوں میں سے دو لڑکوں نے بوننگ لگاسن کے مزاج اور خوبیوں کو اپنایا ہوا تھا۔ پہلے بیٹےMr Carlجو 5 نومبر 1826 کو پیدا ہوئے انھوں نے پیرس میں سکونت اختیار کرلی تھی اور وہیں ڈاکٹر ہنی مین کی دوسری بیوی مسز میلانکی ایڈاپٹ کی ہوئی بیٹی سے شادی کرلی تھی اور انھوں نے میڈم ہنی مین کے ساتھ ہی ہومیوپیتھک پریکٹس شروع کردی تھی۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن کے دوسرے بیٹے Mr Friedrick اپریل 1828 کو پیدا ہوئے۔ وہ بچپن میں بہت نازک مزاج تھے اور دو سال تک نابینا رہے۔ ان کی بصارت والد صاحب کے علاج سے لوٹ آئی اور پھر بڑھاپے تک چشمہ نہیں لگایا۔ میڈیسن کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1859 میں اپنے والد ڈاکٹر بوننگ لگاسن کے ساتھ پریکٹس اور معاونت کرنے لگے۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن عمر رسیدہ ہونے کے باوجود جسمانی اور ذہنی طور پر بڑے چاق و چوبند اور چست نظر آتے۔ 1863 کے موسم سرما میں وہ پھیپھڑوں کی تکلیف میں مبتلا ہوئے لیکن پھر بھی مسلسل کام کرتے رہے۔ 22 جنوری تک انھوں نے اپنا تجربہ مکمل کرلیا تھا۔ 24 جنوری 1864 کو بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا، جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے اور 26 جنوری 1864 کو 78 سال کی عمر پا کر انتقال کرگئے۔
ڈاکٹر بوننگ لگاسن کی ہومیوپیتھی پر مندرجہ ذیل مشہور کتابیں ہیں:
1. Boenning hausens repertory of the antipsorics medicines.
2. Materier medica
3. Therapeotic pocket book
4. The cure of cholera and ints preventives.
5. The homeopathic treatment of whooping cough in its various forms.
6. Reperty of non antisoric remedies.
7. The two sied of the human body and their relationships.
8. The lesser writings

اپنا تبصرہ بھیجیں